کیا سندھ پولیس 2 مفروروں کو بھی گرفتار نہیں کرسکتی؟ چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ قتل کیس کی سماعت کے دوران استفسار کیا کہ کیا سندھ پولیس 2 مفرور ملزمان کو بھی گرفتار نہیں کر سکتی؟

ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ کے قتل کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں ہوئی۔

ام رباب چانڈیو نے عدالت کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے دونوں ایم پی ایز ملزم ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ملزمان سردارخان چانڈیو اور برہان چانڈیو کو کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ایک ملزم کو ڈیل کے تحت پولیس کے حوالے کیا گیا ہے، جاگیردار اور وڈیروں کے خلاف ملزمان کی سہولت کاری پر کارروائی نہیں ہوئی۔

ام رباب چانڈیو کا مزید کہنا تھا کہ عدالت جاتی ہوں تو وڈیرے میرا راستہ روک لیتے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کیا سندھ پولیس 2 مفرور ملزمان کو بھی گرفتار نہیں کر سکتی؟

سپریم کورٹ نے قتل کیس میں دوسرے مفرور ملزم مرتضیٰ چانڈیو کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

دوسری جانب تہرے قتل میں ملوث گرفتار ملزم ذوالفقار چانڈیو سخت سیکیورٹی میں فرسٹ سول جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

سول جج نے ملزم ذوالفقار چانڈیو کو 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا جب کہ قتل کیس میں 2 مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ دادو کی تحصیل میہڑ میں مبینہ طور پر17جنوری 2018ء کو چانڈیو برادری کے افراد نے فائرنگ کرکے ام رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیا تھا۔

سابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار ایک صبح جب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے لیے پہنچے تھے تو ام رباب نے ان کی گاڑی کا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی جب کہ اس کے بعد ان کی سندھ ہائی کورٹ کے باہر ننگے پیر سماعت پر آنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ام رباب کی فریاد پر 2 بار از خود نوٹس لیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو