کورونا سے بچا کر بھوک سے نہیں مار سکتے، کاروبار اور فیکٹریاں بند نہیں کریں گے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے واضح اعلان کیا ہے کہ کورونا سے بچاتے بچاتے لوگوں کو بھوک سے نہیں مارسکتے لہٰذا فیکٹریاں اور کاروبار نہیں بند کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ وائرس کی دوسری لہر خطرناک ہورہی ہے مگر کاروبار اور فیکٹریوں سمیت روزگار سے جڑی کوئی چیز بند نہیں ہوگی۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ 2 ہفتے میں یومیہ اموات 50 تک پہنچ گئی ہیں، پاکستان کی معیشت برصغیر میں سب سے تیزی سے بحال ہوئی لیکن کورونا پراحتیاط نہ کی تو پاکستان کے معاشی حالات بگڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کیسز بڑھنے سے اسپتال کے عملے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، فیصلہ کیا ہے فیکٹریاں اور کاروبار نہیں بند کریں گے اور لاک ڈاؤن کرکے دیہاڑی دار طبقے کو بیروزگار نہیں کرسکتے، کورونا سے بچاتے بچاتے لوگوں کو بھوک سے نہیں مار سکتے۔

اپوزیشن کے جلسوں کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ قریب جمع ہوتے ہیں تو کورونا تیزی سے پھیلتا ہے، ہم نے اپنے جلسے بھی ختم کر دئیے ہیں لیکن اپوزیشن لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے ،جلسوں سے کچھ نہیں ہونا، انہیں این آر او نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ راوی منصوبہ اور بنڈل آئی لینڈ پروجیکٹ بہت ضروری ہیں، راوی پروجیکٹ کا مقصد لاہور کو بچانا جبکہ بنڈل پروجیکٹ کا مقصد کراچی کو بچانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ راوی پروجیکٹ سے پانی بچے گا، لاہور کا زیر زمین پانی اوپر آئے گا اور 60 لاکھ درخت اگائے جائیں گے۔

وزیراعظم کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار

اسرائیل کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم کے فرمان کے مطابق فلسطینیوں کو انصاف ملنے تک ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتے۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پیش نظر اسمارٹ لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے اور انڈور شادی کی تقریبات پر پابندی اور تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو