وائٹ ہاؤس سے نکلنےکے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو کن مقدمات کا سامنا ہوگا؟

3 نومبر کو امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں جوبائیڈن کو واضح برتری حاصل ہوگئی ہے،گو کہ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتائج تسلیم نہیں کیے تاہم امکان یہی ہے کہ 20 جنوری 2021ء کو الیکٹورل کالج میں جوبائیڈن بلاکسی رکاوٹ کے اکثریتی ووٹ لیکر امریکا کے 46 ویں صدر بن جائیں گے۔

جوبائیڈن کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر عام شہر ی بن جائیں گے اور ان پر بھی وہی قوانین لاگو ہوں گے جو کہ دیگر عام امریکی شہریوں پر ہوتے ہیں۔

خیال رہےکہ امریکی صدر کو دوران صدارت ہر قسم کے مقدمات خواہ وہ فوجداری نوعیت کے ہوں یا دیوانی، استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

گذشتہ 4سالہ دور صدارت کے دوران ٹرمپ پر ایسے الزامات بھی لگتے رہے ہیں کہ انھوں نے بطور صدر اپنے آپ کو مالی فوائد پہنچائے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا میں ٹرمپ آرگنائزیشن کے خلاف ٹیکس ، بینک اور ریئل اسٹیٹ فراڈ کی تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔

نیویارک میں ٹیکس فراڈ کی کئی قسمیں سنگین جرائم کے زمرے میں آتی ہیں اور ان پر لمبی قید کی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں،جب کہ ریئل اسٹیٹ فراڈ کی شہادتیں مل جائیں تو عدالتیں جرمانے عائد کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کو رشوت دینے اور جنسی ہراسانی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ عدالتیں مالی فوائد کے حوالے سے دائر مقدمات کو ختم کر دیں گی تاہم مختلف خواتین کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات اور مقدمات میں ٹرمپ کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کی بھتیجی نے بھی حال ہی میں منظرعام پر آنے والی اپنی کتاب میں ان پر مختلف الزامات عائد کیے ہیں اور ان پر کاروبار ہتھیانے کا مقدمہ بھی دائرکردیا ہے۔

امریکی صدرٹرمپ نے ان الزامات اور مقدمات کو مسترد کرتےہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیاہے۔

صدارتی عہدہ چِھننے کےبعد ٹرمپ عام شہری بن جائیں گے جس کے بعد ان کو مقدمات کےاستثنیٰ کے حوالے سے تمام مراعات جو بطور صدر حاصل تھیں ختم ہو جائیں گی اور ان کے مقدمات دوبارہ کھل سکتے ہیں جن کے لیے انھیں خود ہی وکلا اور استغاثہ سے نمٹنا پڑےگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو