نیٹو سربراہ نے امریکا اور طالبان امن معاہدے پر خدشات ظاہر کردیے

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے جنرل سیکرٹری اسٹالٹن برگ نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے جلد بازی میں فوج کے انخلاء کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

رواں سال کے اوائل میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت 14 ماہ میں تمام امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاء ہوگا، ابتدائی 135 روز میں امریکا افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد 8600 تک کم کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اتحادی افواج کی تعداد بھی اسی تناسب سے کم کی جائے گا۔

اب اس معاہدے پر نیٹو کے سربراہ کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے اور اس حوالے سے اپنے بیان میں اسٹالن برگ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت مشکل فیصلے کا سامنا ہے، ہم 20 سال سے افغانستان میں موجود ہیں اور نیٹو میں شامل کوئی بھی اتحادی طویل عرصہ افغانستان میں نہیں رکنا چاہتا لیکن بعض اوقات جلدی یا غیرمنظم انداز میں چھوڑنے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

نیٹو میں شامل 30 ممالک کے 12 ہزار اہلکار افغانستان میں موجود ہیں جو کہ افغان فورسز کی تربیت اور معاونت کررہے ہیں۔

نیٹو سربراہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ابھی بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ عالمی دہشت گرد یہاں جمع ہو کر ہمارے ملکوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کر سکیں، داعش بھی عراق اور شام میں شکست کے بعد یہاں دوبارہ پنپ سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو افواج افغان فورسز کی مدد کرتی رہیں گی اور ہم افغانستان میں 2024 تک رہیں گے۔

خیال رہے کہ نیٹو سربراہ کی جانب سے امن معاہدے سے متعلق بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب ہار چکے ہیں جبکہ نئے قائم مقام امریکی وزیر دفاع فوجیوں کا انخلاء تیز کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ‘اب گھر واپسی کا وقت ہے’۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو