یورپ کو اب طاقت کی زبان بولنے کی پریکٹس کرنا چاہیے، جوزپ بوریل

یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے یورپین سفیروں سے کہا ہے کہ ایک مسابقتی دنیا میں یورپ کو اب صرف کہنے کی بجائے، طاقت کی زبان بولنے کی پریکٹس کرنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پوری دنیا میں موجود یورپین سفیروں کے ایک ہفتہ طویل آن لائن اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یورپین ایمبیسیڈرز کانفرنس 2020ء کی اختتامی گفتگو میں جوزپ بوریل نے کہا کہ وسیع سیاسی رجحانات اور کورونا وباء کے دوران یورپین یونین کی بطور سیاسی منصوبے کو تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی یونین کی تشکیل جو عمل اور حفاظت دونوں کرتی ہے۔

اس موقع پر یورپین خارجہ امور کے سربراہ نے یورپین سفیروں کے ساتھ ملکر یورپین یونین کیلئے اہم بیرونی ترجیحات کا جائزہ لیا جس کی ابتداء یورپ کے پڑوس کو محفوظ بنانے سے ہو۔

دنیا بھر میں موجود یورپین یونین کے 143 وفود اور دفاتر کے عملے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آگاہ کیا کہ اس حوالے سے یورپین ممبر ریاستوں میں باہمی دفاعی تعاون کے کئی منصوبے آگے بڑھ رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو