قادر بلوچ اور ثنااللہ زہری کے معاملے پر ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کا مؤقف

مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے پارٹی چھوڑنے اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے سینیٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ ثنااللہ زہری نے سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خلاف جلسہ عام میں سخت زبان بھی استعمال کی ہے۔ اب اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال اور نواز شریف کے ترجمان محمد زبیرکا ردعمل سامنے آیا ہے۔

پارٹی کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا ردعمل میں کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن بلوچستان کی مکمل تنظیم اپنی جگہ کھڑی ہے، دو اشخاص کے نکل جانے سے کوئی تنظیمی نقصان نہیں ہوا، ثنااللہ زہری تو دو سال سے غیر فعال ہوچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ثنااللہ زہری تو خود پارٹی کے سامنے شرمندہ تھے کہ اپنی حکومت کا دفاع نہ کرسکے، ان کے ہاتھوں اپنی حکومت ٹوٹ چکی تھی، جس پر پارٹی نے ان کی سرزنش کی تھی، ثنا اللہ زہری نے پارٹی کو چھوڑا ہے تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔

احسن اقبال کاکہنا تھا کہ عبدالقادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری نے بات سامنے رکھ دی کہ اصل جھگڑا اسٹیج پر کرسی نہ ملنے کا تھا، ن لیگ جو تحریک چلارہی ہے وہ کسی سردار یا نواب کی اسٹیج پر کرسی سے بڑی ہے، مسلم لیگ ن کو اس طرح کے رویوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

دوسری جانب نواز شریف اور مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کا کہنا ہے کہ قادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری کی پارٹی چھوڑنے کی بتائی گئی وجوہات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کوئٹہ کے جلسے سے قبل عبدالقادر بلوچ نے ملاقات کی تھی جس میں طلال چوہدری اور مصدق ملک بھی موجود تھے۔

محمد زبیر کے مطابق عبدالقادر بلوچ نے کہا نواز شریف نے فوج کے متعلق جو کہا وہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں، قادر بلوچ چاہتے تھے ثنا اللہ زہری جلسے میں اسٹیج پر تشریف لائیں لیکن ثنااللہ زہری کے اسٹیج پر آنے پر اختر مینگل نے اعتراض کیا تھا۔

ترجمان کے مطابق اختر مینگل اور ثنااللہ زہری کی آپس میں دشمنی ہے، اختر مینگل نے کہا ثنااللہ زہری اسٹیج پر موجود ہوں گے تو وہ شرکت نہیں کریں گے، ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر عدم اتحاد نہیں چاہتے تھے۔

محمد زبیر کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت سے بالکل دور ہے کہ عبدالقادر بلوچ کو نواز شریف کے بیانیے سے کوئی اختلاف تھا، اگر قادر بلوچ کو بیانیے سے اختلاف ہوتا تو مریم کا استقبال کرنے وہ کوئٹہ میں موجود نہ ہوتے۔

مسلم لیگ (ن) میں اختلافات اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں ہونے والے جلسہ عام کے بعد سامنے آئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو