مقبوضہ فلسطین میں تعمیر گھر گرانے پر بیلجیئم کا اسرائیل سے احتجاج

بیلجیئم نے اسرائیل کی جانب سے اس کی امداد سے بننے والے گھروں کو مسمار کرنے پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اس کا ہرجانہ ادا کرے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقے میں واقع جنوبی ہیبرون کے الراکیز ایریا میں اسرائیل نے 4 ایسے گھروں کو مسمار کیا جنہیں ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم کے تحت بیلجیئم کے انسانیت کیلئے فنڈ سے تعمیر کیا گیا تھا۔

بیلجیئن وزارت خارجہ کے اعلامیے کے مطابق یہ نہ تو ایسا پہلا واقعہ ہے اور بیلجیئم فلسطینیوں کی امداد کیلئے تعمیرات کرنے والا پہلا ایسا ملک ہے جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہو۔

2017ء سے ڈونر ممالک کے ایک گروپ مسلسل ایسے واقعات کا سامنا ہے جس میں ان کی جانب سے خالص انسانی بنیادوں پر تعمیر کردہ گھروں اور بنیادی ضرورتوں کیلئے قائم کردہ عمارات کو گرایا گیا ہے۔

بیلجیئن وزارت خارجہ نے اسرائیل کو یاد دلایا کہ وہ یہ تعمیرات بین الاقوامی قانون کے تحت مشکل حالات میں انسانی ضروریات کیلئے فراہم کرتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک ذمہ دار اور سیکیورٹی کونسل کے رکن ملک کی حیثیت سے بیلجیئم نے مقبوضہ فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے عمارات کی الارمنگ حد تک مسماری پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے آواز بلند کی ہے۔

وزارت خارجہ نے اسرائیل کو یاد دلایا کہ یہ حرکت بین الاقوامی قانون اور خاص طور پر چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت جرم ہے۔ جس کے مقامی آبادی پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بیلجیئن وزارت خارجہ نے اس اعلامیے میں اسرائیلی اتھارٹیز سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسی حرکت سے باز آجائیں اور گرائی گئی ان عمارات کا ہرجانہ ادا کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو