کافی کے فائدے اور نقصان

کچھ لوگ کافی کا استعمال حد سے زیادہ کرتے ہیں مگر وہ اس کے منفی اور مثبت اثرات سے لاعلم ہوتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں یومیہ 2 ارب کپ سے زائد کافی پی جاتی ہے اور موسم سرما کے دوران اس تعداد میں کئی گنا اضاف ہوجاتا ہے. تاہم کافی کے فوائد اور نقصانات کے حوالے سے یہ بحث رہی ہے کہ کافی کتنی فائدہ مند ہے یا پھر اس کے نقصانات بھی ہیں۔

کافی کو پسند کرنے والے یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوں گے کہ سائنسی شواہد اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔

فائدہ مند اور نقصان دہ کیوں…؟

کافی کے مثبت اثرات کی وجہ اس میں پایا جانے والا سب سے اہم جزو کیفین ہے۔ انسانی جسم پر کیفین کے مثبت اثرات کئی تحقیقات کے ذریعے تسلیم شدہ ہیں تاہم مجموعی طور پر کافی مختلف جزو والا ایک پیچیدہ مشروب ہے اور یہی مختلف جزو کافی کو فائدہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ نقصان دہ بھی بناسکتے ہیں۔

یعنی کافی کا ایک حد سے زیادہ استعمال آپ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

کافی کے فوائد

جسمانی کارکردگی میں اضافہ

ورک آؤٹ سے ایک گھنٹہ پہلے لیا گیا بلیک کافی کا ایک کپ جسمانی کارکردگی میں 11 سے 12 فیصد اضافہ کرسکتا ہے۔

کافی میں موجود کیفین خون میں اینڈرلائن ( جسم کو مشقت کے لیے تیار کرنے والا ہارمون )کی سطح کو بڑھا کر کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔

چربی کو جلاتا ہے

کیفین چربیلے خلیوں کو توڑنے کے علاوہ ان کو جسم کے لیے بطور ایندھن استعمال کرنے میں مدد دیتی ہے۔

وزن کم کرنے میں مددگار

کافی میں موجود میگنیشیم اور پوٹاشیم انسانی جسم کو انسولین کے استعمال میں مدد فراہم کرتا ہے جب کہ ساتھ ہی بلڈ شوگر کی سطح کو متوازن رکھتے ہوئے نمک اور چینی کی خواہش کو کم کرتا ہے۔

چاق و چوبند رکھتی ہے

کیفین کی کم مقدار کے ساتھ یومیہ کافی کے 6 کپ انسان کو چاق وچوبند رہنے کے قابل بناتے ہیں۔

قبل از وقت موت کا خطرہ کم کرتی ہے

بعض مطالعات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کافی نہ پینے والے افراد کے مقابلے کافی پینے والے افراد میں قبل از موت کا خطرہ 25 فیصد کم پایا جاتا ہے۔

اینٹی کینسر خصوصیات

ایک تحقیق کے مطابق یومیہ 4 کپ کافی مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کا خطرہ 20 فیصد جب کہ خواتین میں اینڈومیٹریل کینسر کی شرح 25 فیصد کم کرتی ہے۔

دماغ کو تحفظ فراہم کرتی ہے

جسم میں کیفین کی اعلیٰ سطح خون سے دماغی بیماریوں مثلاً الزائمر اور ڈیمینشیا کا خطرہ کم کردیتی ہے۔

فالج کا خطرہ کم ہوجاتا ہے

دن بھر میں 2 سے چار کپ کافی میں موجود کیفین کی مقدار کو فالج کے خطرات میں کمی سے منسلک کیا جاتا ہے۔

نقصان دہ اثرات

غیر معیاری کافی کا استعمال سردرد ،کمزوری اور مزاج کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے اور ایسا تب ممکن ہے جب کافی بیچوں کو چھیل کر یا گلا کر تیار کی گئی ہو۔

بے دریغ استعمال سے زندگی کو خطرہ

مختصر مدت میں کافی کے 80 سے 100 کپ (23 لیٹر) جسم میں 10 سے13 گرام کیفین کی مقدار پیدا کردیتے ہیں، اس سطح پر پہنچنے سے پہلے ہی انسان کو قے کی شکایت شروع ہوجاتی ہے جس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

صرف کافی ہی نہیں بلکہ زائد مقدار( 23 لیٹر ) میں پانی بھی انسان کے لیے اتنا ہی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

انسومنیا اوربے چینی کی وجہ

بے خوابی اور بے چینی کی وجہ بھی کافی میں پایا جانا والا جزوکیفین ہے اس لیے یہی وجہ ہے کہ ماہرین دن بھر میں 4 کپ کافی تجویز کرتے ہیں۔

حاملہ خواتین کے لیے ایک کپ سے زائد نقصان دہ

فیٹس (حمل) پر کافی کے اثرات آغاز سے ہی متنازع ہیں تاہم اس حوالے سے جوبات یقینی ہے وہ یہ کہ کافی کا زیادہ استعمال حمل کو شدید حد تک حساس بنا دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے جس کے باعث ماہرین حاملہ خواتین کو ایک کپ سے زائد کافی تجویز نہیں کرتے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو