گزشتہ سماعت پرپیش نہ ہونے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر 50 ہزار روپے جرمانہ

سپریم کورٹ میں بورڈ آف ریونیو سندھ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی اور اس دوران گزشتہ سماعت پرپیش نہ ہونے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر 50 ہزار روپے جرمانہ کردیا گیا۔

سندھ میں آبپاشی کے پلانٹس کی ملکیت حکومت سندھ کو دینے کے معاملے میں سندھ بورڈ آف ریونیو کے فیصلے خلاف اپیل پر سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بنچ نے کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کراچی میں حالیہ بارشوں سے جگہ جگہ پانی کی گزرگاہیں بنیں، کیا وہ بھی حکومت سندھ کے ملکیت ہیں؟ کیا ڈی ایچ اے کراچی کی زمین بھی سندھ حکومت کی ہے؟

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے سندھ میں آبپاشی کے پلانٹس کی ملکیت حکومت سندھ کو دینے کا فیصلہ کیا جس کا سندھ کے عوام کو علم ہی نہیں۔

اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا سندھ کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو آگاہ کر دیا گیا تھا۔

عدالت نے گزشتہ سماعت پر پیش نہ ہونے پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو 50 ہزار روپے جرمانہ کیا۔

اس پر نظرِ ثانی کی اپیل کی گئی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اگر اس عدالت کے فیصلے بےمعنی ہیں تو ہم ان کو معنی خیز بنانا جانتے ہیں، سندھ بورڈ آف ریوینو کی کارکردگی پر حیران و پریشان ہیں۔

سپریم کورٹ نے معاملہ لینڈ کلکٹر کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے سندھ حکومت کو اراضی سے متعلق قوانین میں شامل سندھی الفاظ کو عام فہم بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو