یہ کیا تماشہ ہے؟ ایرانی رہبر اعلیٰ کا امریکی انتخاب پر طنز

امریکی صدارتی انتخاب کے حوالے سے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے طنزیہ بیان جاری کرتے ہوئےکہا ہے کہ اس الیکشن نے امریکی جمہوریت کی حقیقت کو بے نقاب کردیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست الاسکا کے آخری پولنگ اسٹیشن میں پولنگ ختم ہوئے 24 گھنٹے سے بھی زیادہ وقت گزر چکا ہے تاہم اب تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں صدر کی کرسی پر کون براجمان ہوگا۔

اس حوالے سے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’کیا تماشہ ہے! ایک شخص کہہ رہا ہے کہ یہ امریکی تاریخ کے فراڈ ترین انتخابات ہیں، اور یہ کون شخص کہہ رہا ہے؟ امریکی صدر جو اس وقت عہدے پر برقرار ہے‘۔

خامنہ ای نے مزید لکھا کہ ’مخالفین کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ الیکشن میں دھاندلی کرنا چاہتے ہیں، یہ ہے امریکی انتخاب اور جمہوریت کی حقیقت‘۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے سیدھا سیدھا انتخاب کو دھاندلی زدہ کہنے پر خود ان کی جماعت ری پبلکن پارٹی کے بعض رہنما بھی پریشان ہیں جبکہ ٹرمپ کے سیاسی حریف جوبائیڈن کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم الزام عائد کرتی ہے ٹرمپ ان ہزاروں ووٹرز کو انتخابی حقوق سے محروم کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ڈاک کے ذریعے حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

خیال رہے کہ چار برس قبل ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تلخی آگئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ امریکا کا جوہری معاہدے سے دستبردار ہونا اور ایران پر معاشی پابندیاں دوبارہ عائد کرنا ہے۔

جوبائیڈن انتخابی مہم کے دوران اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی رہبر اعلیٰ اپنے بیان میں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکی انتخابی نتائج کا اثر ایرانی پالیسی پر نہیں پڑے گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو