امریکا میں ’دوہری وبا‘ اور ’تاریک سردیوں‘ کا خطرہ

طبّی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سال سردیوں کے دوران امریکا میں کورونا وائرس کی وبا اور بھی شدید ہوجائے گی۔ اس کیفیت کو انہوں نے ’تاریک سردیوں‘ کا نام دیا ہے۔

یہ بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ ہر سال سردیوں ہی میں امریکا کو بڑے پیمانے پر موسمی زکام (سیزنل فلو) کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح خدشہ ہے کہ موجودہ سال میں امریکا کو موسمی زکام کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کا بھی سامنا ہوگا؛ اور اسی کیفیت کو ماہرین نے ’دوہری وبا‘ (twindemic) کا نام دیا ہے۔

واضح رہے کہ طبّی ماہرین پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ 2020ء کے اختتام تک امریکا میں کورونا وبا سے ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی مرکز برائے امراض ’’سی ڈی سی‘‘ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، وہاں صرف گزشتہ ایک سال میں موسمی زکام سے تقریباً 3 کروڑ 55 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں سے 490,000 افراد کو اسپتال میں داخل کروانا پڑا جبکہ اموات کی تعداد 34,200 رہی ہے۔

کورونا وبا اور موسمی زکام کی ایک ساتھ کی موجودگی سے امریکیوں میں بیماری، اسپتال میں داخل ہونے اور اموات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔

طبّی ویب سائٹ ’’ہیلتھ لائن‘‘ پر شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ اکتوبر 2020ء میں گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں نئے کورونا کیسز کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور اس وبا سے متاثر ہونے والے امریکیوں کا ہفت روزہ اوسط 44,765 یومیہ سے بڑھ کر 78,981 یومیہ پر پہنچ چکا ہے؛ جو بلاشبہ ایک تشویشناک بات ہے۔ ویب سائٹ نے یہ اعداد و شمار جان ہاپکنز یونیورسٹی کے حوالے سے بیان کیے ہیں۔

اسی رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ وہ امریکی ریاستیں جہاں پہلے کورونا وبا کی شدت کم تھی، اب اُن ریاستوں میں بھی یہ وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں کو متاثر کررہی ہے۔

یہی نہیں، بلکہ کورونا وبا میں مسلسل پابندیوں سے امریکی شہری بھی شدید اکتاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں سماجی فاصلے سے لے کر ماسک پہننے تک، بیشتر احتیاطی تدابیر (ایس او پیز) کی خلاف ورزیاں بڑھ چکی ہیں۔ یہ عوامی رویہ بھی ماہرین کی تشویش میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گھروں میں کھڑکیاں دروازے بند کرکے بیٹھے کا رجحان بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ تازہ ہوا کا گزر نہ ہونے کے نتیجے میں گھروں کے اندر کورونا وائرس کا پھیلاؤ اور بھی شدید ہوسکتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اگر ایک فرد کورونا سے متاثر ہوجائے تو جلد ہی باقی کے تمام یا اس کے ساتھ رہنے والے بیشتر لوگ بھی اس بیماری میں مبتلا ہوجائیں۔

کورونا وبا کی وجہ سے امریکا میں اسپتالوں اور طبّی سہولیات فراہم کرنے والے مراکز پر پہلے ہی بہت دباؤ ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سردیوں میں موسمی زکام سے اس دباؤ میں مزید اضافہ ہوجائے گا، جسے سنبھالنا امریکی نظامِ صحت کے بس سے باہر ہوگا۔

ایسی صورت میں قوی امکان ہے کہ امریکا میں ’’طبّی راشن بندی‘‘ کرنا پڑجائے، یعنی ہر اسپتال اور طبّی مرکز پر سہولیات کا کوٹا مقرر کردیا جائے تاکہ جانی نقصان کم کیا جاسکے۔

اسی تسلسل میں ایک سوال جو بہت زیادہ پوچھا جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کب تک دستیاب ہوگی؟… اگرچہ امریکا سمیت پوری دنیا میں ہنگامی بنیادوں پر سینکڑوں طرح کی کورونا وائرس ویکسینز پر کام جاری ہے، اور ان میں سے کچھ ویکسینز آخری طبّی مراحل میں داخل بھی ہوچکی ہیں، لیکن ایک ویکسین کا طبّی آزمائشوں میں کامیاب ہوجانا اور بڑے پیمانے پر اس کا دستیاب ہوجانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کی کوئی بھی ویکسین اس سال دسمبر یا پھر جنوری 2021ء سے پہلے دستیاب نہیں ہوسکے گی؛ اور اگر ہوئی بھی تو شاید محدود پیمانے پر۔ تب تک کورونا وائرس امریکا میں اچھی خاصی تباہی اور ہلاکت کا باعث بن چکا ہوگا۔

البتہ، ماہرین نے ایک اچھی خبر یہ بھی سنائی ہے کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر جو موسمی زکام سے بچانے میں مفید ہیں، ٹھیک وہی تدابیر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں بھی کارآمد ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو