پی سی بی اور فرنچائزز میں نیا اختلاف سامنے آگیا

پی سی بی اور فرنچائزز میں نیا اختلاف سامنے آ گیا، باہمی سیریز کے انٹرنیشنل نشریاتی حقوق کنٹریکٹ میں پی ایس ایل کو شامل کرنے پر بعض اونرز خوش نہیں، انھیں یہ نہیں بتایا گیا کہ شیئر کتنا ہوگا، مشاورتی عمل میں شرکت کیلیے 2 نام مانگنے کے بعد خاموشی اختیار کر لی۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے 2019ء سے 2021ء تک پی ایس ایل کے بیرون ملک میڈیا رائٹس ٹیک فرنٹ انٹرنیشنل ایف زیڈ ای کو فروخت کیے تھے، واجبات کی عدم ادائیگی سمیت متعدد بار معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر بورڈ نے ستمبر میں یہ معاہدہ ختم کر دیا، جس پرٹیک فرنٹ نے لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن سے رجوع کرلیا، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی نقصانات کی تلافی کیلیے ایسا ہی کیا، مذکورہ میڈیا پارٹنر نے ہی پانچویں ایڈیشن کے لائیو اسٹریمنگ رائٹس جوئے کی کمپنی کو فروخت کیے تھے۔

کئی ماہ بعد بورڈ نے معافی قبول کرتے ہوئے کوئی ایکشن نہ لینے کا اعلان کیا تھا مگر واجبات کی عدم ادائیگی پر معاہدہ ختم کر دیا، چند ماہ قبل جاری کردہ ٹینڈر کے مطابق پی سی بی نے نومبر 2020ء سے مارچ 2023ء تک کی انٹرنیشنل کرکٹ کے ساتھ 2021ء سے 2023ء کی پی ایس ایل کے پاکستان سے باہر نشریاتی حقوق کیلیے پیشکش بھی طلب کی تھیں، افریقہ کے سوا دیگر ریجنز کیلیے مناسب بڈز نہ ملنے پر ٹینڈر منسوخ کر دیا گیا اور اب دوبارہ جاری ہوگا۔

پی ایس ایل کو باہمی سیریز سے منسلک کرنے پر فرنچائزز زیادہ خوش نہیں، پی سی بی نے کہا تھا کہ ایسا ویلیو بڑھانے کیلیے کیا گیا لیکن صرف افریقہ کیلیے ہی رائٹس فروخت ہونے پر بعض ٹیم اونرز تشویش کا شکار ہو گئے ہیں، مسلسل مالی نقصان کا شکار ٹیموں کو تھوڑی بہت رقم میڈیا رائٹس ڈیل سے ہی ملتی ہے،ذرائع نے بتایا کہ بورڈ نے پی ایس ایل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے باہمی سیریز کے ساتھ اسے منسلک کیا،فرنچائزز سے مشاورتی عمل میں شامل ہونے کیلیے 2نام مانگے گئے تھے مگر پھر چار نام آنے پر کسی کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

اس فیصلے سے پہلے ہی نقصان کا شکار ٹیموں کے مسائل مزید بڑھ جائیں گے، سیریز اور پی ایس ایل کی ویلیو کا فیصلہ کیسے ہوگا یہ بات بھی ابھی واضح نہیں ہے، اس حوالے سے رابطے پر ڈائریکٹر میڈیا پی سی بی سمیع الحسن برنی نے کہا کہ چھٹی کے دن گھریلو مصروفیات کی وجہ سے پی سی بی کے متعلقہ آفیشلز دستیاب نہیں، ان سے بات کرنے کے بعد ہی ردعمل دیا جا سکے گا۔ یاد رہے کہ ٹیک فرنٹ سے 2019ء سے 2021ء کی منسوخ شدہ ڈیل کے پی سی بی کو 3 سال میں 10 لاکھ ڈالر ملنے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو