فرانسیسی صدر کا گستاخانہ خاکوں سے اظہارِ لاتعلقی

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا ہے گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتا ہوں، گستاخانہ خاکے حکومتی پروجیکٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔

ایک عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایمانوئل میکرون نے اپنے ملک میں گستاخانہ خاکوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔

اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے حوالہ سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتا ہوں، گستاخانہ خاکے حکومتی پروجیکٹ نہیں ہے اور نہ ہی ان کو سرکاری حمایت حاصل ہے۔

ایمانوئل میکرون کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہیں، گستاخانہ خاکوں سے متعلق میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ مقامی لوگ میرے بیان کو سمجھتے تھے، اسی وجہ سے یہاں کوئی ردِعمل نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کا حامی ہوں۔

الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے کہا وہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں تاہم انہیں جاننا ہوگا کہ گستاخانہ خاکے حکومتی منصوبہ نہیں اور نہ اسے سرکاری حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہے، گستاخانہ خاکوں سے متعلق میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جیسے میں اِن گستاخانہ خاکوں کا حامی ہوں۔

میکرون کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکے نجی صحافتی اداروں نے شائع کیے جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں۔

فرانسیسی صدر کا مزید کہنا تھاکہ کچھ لوگ اسلامی تعلیمات کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں، اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کرکے، قتل وغارت، تشدد اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر جو چیز پھیلائی جارہی ہے وہ خود مسلمانوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے، دہشتگردی کا خمیازہ بھگتنے والے 80 فیصد لوگ مسلمان ہیں۔

فرانسیسی صدر نے یہ بھی کہا کہ گستاخانہ خاکے نجی صحافتی اداروں نے شائع کیے جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں۔

خیال رہے کہ فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور پھر اس کے حق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان کے بعد دنیا بھر میں فرانس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور مسلم ممالک میں فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔

پاکستان نے بھی فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور پارلیمنٹ سے مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے جب کہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

گستاخانہ خاکوں کی سرکاری سرپرستی میں اشاعت کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والے ملک فرانس کے وزیرداخلہ جیرالڈ درمانین نے ڈھٹائی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

واضح رہے کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر اور پھر فرانسیسی صدر کے اسلام سے متعلق بیان کے بعد مسلم سراپا احتجاج ہے۔

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے اس معاملے میں احتجاج بھی کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو