امریکا نے اسرائیل کیلئے 70 کی دہائی سے معطل فنڈنگ بحال کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب سے قبل ایک اور انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کیلئے 70 کی دہائی سے معطل فنڈنگ بحال کرنے کا اعلان کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا نے مقبوضہ مغربی کنارے اور گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی تحقیق کیلئے فنڈز بحال کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر 1970ء کی دہائی سے پابندی عائد تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تاریخ کا مضبوط ترین اتحادی قرار دے چکے ہیں اور ٹرمپ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ وہ مغربی کنارے پر اسرائیلی تعمیرات کی بھی مخالفت نہیں کرتے۔

1970ء کی دہائی میں امریکا نے اسرائیلی سائنٹفک فاؤنڈیشنز کی فنڈنگ کیلئے 3 معاہدے کیے تھے تاہم 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا تو امریکا نے یہ شرط عائد کردی کہ فنڈنگ کے پیسے مقبوضہ علاقوں میں ریسرچ کیلئے استعمال نہیں ہوسکیں گے، ان علاقوں میں گولائن ہائٹس اور مقبوضہ مغربی کنارہ بھی شامل ہے۔

امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اب امریکا نے فنڈنگ کے استعمال کی تمام شرطیں ختم کردی ہیں۔

اس حوالے سے باقاعدہ تقریب مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ایک یونیورسٹی میں ہوئی جس میں امریکی سفیر اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو بھی شریک تھے۔

نیتن یاہو نے اس موقع پر ماضی میں تمام اقدامات کو ناکام قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو