ایپل کی اپنا سرچ انجن بنانے کی کوششیں

معروف کمپنی ایپل نے سرچ انجن گوگل پر مقدمے کے بعد آئی فون کیلئے اپنا ’سرچ انجن‘ بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔

امریکی محکمہ انصاف نے گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے گوگل کی ایپل سے ہونے والی ڈیل کیخلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

اس مقدمے کے بعد ایپل نے اپنا سرچ انجن بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ معروف جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق آئی فون کے تازہ ترین آپریٹنگ سسٹم (آئی او ایس14) میں ایپل کے سرچ انجن نے جزوی طور پر کام بھی شروع کردیا ہے جہاں کسی بھی چیز کو سرچ کرنے پر گوگل کے نتائج کے بجائے براہ راست ویب سائٹ کے لنک فراہم کیے جارہے ہیں۔

اس سے قبل آئی فون کے آپریٹنگ سسٹم میں ویب براؤزر ’سفاری‘ پر کسی بھی چیز کی معلومات کھوجنے پر گوگل سرچ انجن کے ذریعے مطلوبہ لنک پر پہنچا جاتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق معروف کمپنی گوگل کے خلاف غیر قانونی طور پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے ‘عدم اعتماد’ کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے گوگل اور ایک اور بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے درمیان معاہدے کو ہدف بناتے ہوئے عدم اعتماد کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے دائر مقدمے میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے غیر قانونی طور پر اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لیے تلاش اور اشتہاری مارکیٹ میں غیرمسابقانہ طریقوں کا استعمال کیا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق گوگل اور ایپل کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ غیر قانونی ہتھکنڈوں کا عکاس ہے جو گوگل کی اجارہ داری کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2017ء میں ایپل کمپنی اور گوگل کے درمیان آئی فون اور دیگر ایپل ڈیوائسز میں گوگل سرچ انجن کو ڈیفالٹ آپشن (لازمی) رکھنےکامعاہدہ ہوا تھا، یعنی جب کوئی صارف آئی فون کے ویب براؤزر ‘سفاری’ پرکوئی چیز تلاش کرے تو وہ براہ راست اس پر لے جانے کے بجائے گوگل سرچ انجن پر لے جائے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایپل کمپنی کو معاہدے کے تحت سالانہ 12 ارب ڈالرز وصول ہوتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف کے مقدمے کے بعد گوگل اور ایپل کا معاہدہ ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور ایپل نے انٹرنیٹ پر تلاش (سرچ انجن) کے میدان میں گوگل کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایپل اپنا سرچ انجن بنانے پر کام کررہا ہے اور اس نے اپنے تازہ ترین آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 14 میں خاموشی سے ایک بڑی تبدیلی بھی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئی او ایس 14 میں کوئی چیز تلاش کرنے پر اب ایپ کا ویب براؤزر صارف کو گوگل انجن پر لے جانے کے بجائے براہ راست مطلوبہ تلاش یا ویب لنک پر لے کر جارہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایپل کا یہ فیصلہ عالمی سرچ انجن کی مارکیٹ میں 80 فیصد حصہ رکھنے والے گوگل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

دوسری جانب ایپل کمپنی نے سرچ انجن سے متعلق اپنے اقدامات کو خفیہ رکھا ہوا ہے اور اس پر ردعمل نہیں دیا ہے۔

انڈسٹری کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل کی جانب سے آئی او ایس 14 میں سرچ انجن کا اقدام گوگل پر حملوں کا آغاز ہے۔

خیال رہے کہ 2017ء میں گوگل نے ایپل سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ گوگل سرچ انجن کو اپنی ڈیوائسز پر ڈیفالٹ رکھے، اس معاہدے کے عوض گوگل کی جانب سے ایپل کو سالانہ 12 ارب ڈالرز دیے جاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو