فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے فرانس کی معیشت کا نقصان

مسلم ممالک کی جانب سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ سے فرانس کی معیشت کو 100 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اسلام مخالف بیان اور حضرت محمدﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کو نہ روکنے کے بیان کے بعد کئی ممالک میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہے۔

فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کا اعلان سب سے پہلے ترک صدر کی جانب سے کیا گیا تھا جس کے بعد اس وقت کویت، اردن اور قطر سمیت کئی ممالک کے اسٹورز سے فرانسیسی مصنوعات کو ہٹا دیا گیا ہے۔

فوٹو: بشکریہ ڈیلی سباہ

اب حال ہی میں ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی (اے اے) کی جانب سے ڈیٹا مرتب کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر تمام تر مسلم ممالک فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں گے تو اس سے فرانس کی معیشت کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے۔

مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق فرانس ہر سال 100 ارب ڈالر کی مصنوعات مسلم ممالک کو برآمد کرتا ہے، اس لیے اگر تمام مسلم ممالک میں فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا تو اس سے فرانس کی معیشت کو ایک سال میں ہی 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

خیال رہے کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت خارجہ نے عرب ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو