دل کے مریضوں کو کورونا وائرس کیسے متاثر کرتا ہے؟

کورونا وائرس کے حوالے سے کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں میں کورونا وائرس سے موت کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

دل کے امراض میں مبتلا مریضوں میں کورونا سے موت کا خطرہ جانچنے کے لیے برطانوی ڈاکٹرز نے اسپتالوں میں داخل 300 سے زائد ایسے مریضوں کا مشاہدہ کیا جن میں ٹروپونن (زخمی دل سے خارج ہونے والا پروٹین) کی سطح بلند تھی۔

امریکن کالج آف کارڈیالوجی جرنل میں شائع ہونے والے اس مشاہدے میں بتایا گیا کہ ایکوکارڈیوگرام کے دوران، دل کے سائز ، ساخت، شکل اور فعل میں تبدیلیاں رکھنے والے مریضوں میں موت کا خطرہ زیادہ پایا جاتا ہے۔

خون میں ٹروپونن کے بغیر مریضوں میں اموات کی شرح 5.2 فیصد جب کہ بلند ٹروپونن کی سطح اور دل کی ساخت نارمل نظر آنے والے مریضوں میں موت کی شرح 18.6 فیصد تاہم ہارٹ ریموڈلنگ اور بلند سطح ٹروپونن کے ساتھ یہ شرح 31.7 فیصد تک دیکھی گئی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسرے عوامل کی نشاندہی کے دوران، کارڈیک ریموڈلنگ کے ساتھ صرف ٹروپونن کی بلند سطح ہی مریضوں کی اموات کا سبب بنی۔

نیویارک سٹی کے ماؤنٹ سنائی میں واقع آئیکھن اسکول آف میڈیسن کے شریک مصنف گینیرو گسٹینو کا غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹروپونن کی بلند سطح کے ساتھ کرونا کے مریضوں کو تشخیصی جانچ اور علاج سے متعلق حکمت عملی میں رہنمائی کے لیے ایکوکارڈیوگرافی لازمی کروانی چاہیے۔

دوسری جانب زیر غور مطالعے کے مصنف اور نیو آرلین کے آچسنر ہیلتھ ڈاکٹر کارل کہتے ہیں کہ کورونا وائرس میں مبتلا خراب ایکوگرافی والے مریضوں کو عام افراد کے مقابلے فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو