چین سے سرحدی تنازع کے معاملے پر امریکا نے بھارت کی کھل کر حمایت کردی

گزشتہ دنوں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل او اے سی) پر لداخ کی وادی گلوان میں بھارتی اور چینی افواج میں جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے نتیجے میں کئی بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

اس جھڑپ کے بعد سے اب تک کشیدگی جاری ہے اور چین ایل او اے سی پر کشیدگی کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب چین کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت اور امریکا کے درمیان سیٹیلائٹ تک رسائی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔

معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع مارک ایسپر پیر کو نئی دہلی پہنچے تھے جہاں انہوں نے بھارتی وزیر اعظم سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

آج امریکی وزیر خارجہ اور امریکی وزیر دفاع نے اپنے بھارتی ہم منصبوں ایس جے شنکر اور راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد دفاعی معاہدے ’بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (بیکا)‘ پر دستخط کیے اور چین کو دھمکیاں بھی دیں۔

اس موقع پر امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا کہ چین کی خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور جارحیت کی کوششوں کے خلاف بھارت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑے ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ نے بھی اعلان کیا کہ امریکا، بھارت کی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔

انہوں نے چین پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتی حکام سے ملاقات میں چین کی حکمران جماعت چینی کمیونسٹ پارٹی پر بھی بات چیت ہوئی ہے، ان میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور شفافیت نہیں ہے۔

امریکا اور بھارت کے درمیان اہم دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں اور اس معاہدے کو خطے میں بھارت کی برتری کیلئے اہم سمجھا جارہا ہے۔

بیکا امریکا اور بھارت کے درمیان چوتھا اور آخری بنیادی دفاعی سمجھوتہ ہے۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان جنرل سیکیورٹی اینڈ ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ (2002ء)، لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (2016ء)، کمیونیکیشن کمپیٹی بلیٹی اینڈ سیکیورٹی ایگریمنٹ (2018ء) کے معاہدے ہوچکے ہیں۔

بیکا کے تحت بھارت کو مختلف فضائی اور میدانی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوجائے گی جس کا مقصد چین کی عسکری طاقت کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس معاہدے کے تحت بھارت اور امریکا نقشوں، ناٹیکل اور ایروناٹیکل چارٹس، کمرشل و دیگر غیر حساس تصاویر، جیو فزیکل، جیو میگنیٹک اور گریویٹی ڈیٹا کا تبادلہ کرسکیں گے۔

اس معاہدے کے تحت امریکا بھارت کے ساتھ حساس سیٹلائٹ اور سینسر ڈیٹا کا تبادلہ کرے گا جس کی مدد سے بھارت اپنے عسکری اہداف کو مہارت کے ساتھ نشانہ بنانے کا اہل ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ بھارت بحر ہند میں چینی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھ سکے گا۔

سیٹیلائٹ ڈیٹا تک رسائی کے باعث بھارت کو میزائل اور ڈرونز کی کارکردگی بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو