باغبانی صحت مند زندگی کے لیے ضروری کیوں ؟

ملینیل (1981ء سے 1996ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) اور جنریشن زی (1990ء سے 2010ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) کی بڑی تعداد انڈور پلانٹس کی دیوانی ہے اور سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد بالاخر کیوں کیکٹس، سوئس چیز، چائینیر ایورگرین اور اسپائڈر پلانٹ جیسے انڈور پلانٹس کا انتخاب کرتی ہے.

باغبانی ایک دھیمی، طبعی اور صبر آزما سرگرمی ہے جو ایک تیز رفتار زندگی میں پرسکون لمحات کی فراہمی آسان بناتی ہے۔

پودوں کے ساتھ مضبوط جذباتی تعلق قائم ہوجاتا ہے، طویل سردی کے بعد، مٹی کے توسط سے کسی نئے پودے کی واپسی کسی کو بھی سچی خوشی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔

پودوں کی موسمی تبدیلی اور ارد گرد موجود وسیع قدرتی دنیا سے کئی بار رہنمائی ملتی کی، یہی وجہ ہے کہ باغبانی ایک غور و فکر والا مشغلہ ہے۔

آپ ان ڈور پلانٹس کا انتخاب کیوں کریں؟

پودوں کے فوائد پر کی جانے والی تحقیق ثابت کرتی ہیں کہ انڈور پلانٹس، ارتکاز اور پیداواری صلاحیت کو 15فیصد بڑھا دیتے ہیں جبکہ تناؤ کی سطح کم کرتے ہوئے مزاج کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

یہی وجوہات ہیں جس کی بناء پر کہا جاتا ہے کہ ہر گھر کا کچھ حصہ نہ صرف باغبانی کے لیے مختص کیا جائے بلکہ اس حصے میں باقاعدگی سے وقت گزارنا بھی انسانی صحت کے لیےلازم و ملزوم ہے۔

تناؤ کی سطح کم کرنے کے لیے

جرنل آف سائیکولوجیکل اینتھروپولوجی میں شائع شدہ تحقیق کے مطابق، آفس اور گھر میں موجود پودے آپ کو قدرت سے قریب تر رکھنے کے ساتھ آرام دہ اور پرسکون ماحول بھی فراہم کرتے ہیں۔

زیر غور تحقیق میں شامل شرکاء کو دو مختلف قسم کے کام تفویض کیے گئے، ایک گروپ کو کمپیوٹر ٹاسک جب کہ دوسرے گروپ کو باغبانی بطور ٹاسک دیا گیا، کام کی تکمیل کے بعد ماہرین کی جانب سے شرکاء میں تناؤ سے منسلک حیاتیاتی عوامل کی پیمائش کی گئی۔

نتائج نے واضح کیا کہ باغبانی کرنے والے گروپ میں کمپیوٹر ٹاسک گروپ کے برعکس تناؤ کی سطح بے حد کم دیکھنے میں آئی۔

بہتر اور معیاری نیند کے لیے پودوں کا انتخاب

اگرچہ پودے سارا دن ہی آکسیجن خارج کرتے ہیں لیکن جب رات کے وقت فوٹوسینتھیز کا عمل رک جاتا ہے تب زیادہ تر پودے چیزوں کو تبدیل کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج شروع کر دیتے ہیں۔

تاہم ان ڈور پلانٹس کے طور پر ایسے پودوں کا انتخاب کیا جائےجو رات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بجائے بہتر نیند کے لیے معاون آکسیجن کا اخراج کریں۔

جس کے لیے ماہرین کی جانب سےآرچڈ، سکولینٹ، اسنیک پلانٹ اور برومولڈ جیسے پودے تجویز کیے جاتے ہیں۔

پانی کے اخراج کے لیے

فوٹوسینتھیسز اور سانس لینے کے عمل کے طور پرپودے نم بخارات کا اخراج کرتے ہیں یہ صورتحال اردگرد فضا میں موجود نمی کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔

پودے چونکہ 97 فیصد جذب کیا گیا پانی خارج کر دیتے ہیں لہٰذا بیڈروم کے لیے متعدد پودوں کے انتخاب کے ذریعے فضا میں موجود نمی کو بڑھایا جا سکتا ہے، یہ انتخاب سانس کی تکالیف دور کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

باغبانی بطور علاج بھی

ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے علاج کے لیے باغبانی بطور علاج بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین ڈیمنشیا، ڈپریشن اور انزائٹی کا شکار افراد کے علاج کے لیے باغبانی تھراپی کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔

بیماری سے جلد صحتیاب ہونے کے لیے

کسی بیماری، سرجری یا چوٹ لگنے کی صورت پودوں اور پھولوں کے نزدیک ہونا بھی جلد صحتیابی کا باعث بن سکتا ہے۔

رواں برس ہی کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اسپتال کے وہ مریض جو دوران علاج پودوں اور پھولوں کے نزدیک ہوتے ہیں انھیں ان افراد کی نسبت جو پودوں پھولوں کے نزدیک نہیں ہوتے، کم درد کش ادویات کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو