آلو، ٹماٹر اور دودھ سمیت 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ

ملک میں ایک ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور 11 اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔

ملک میں جاری مہنگائی کا زور ٹوٹ گیا اور مسلسل کئی ہفتے مہنگائی کی شرح میں اضافے کے بعد گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.23 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح بھی کم ہوکر 8.76 فیصد ہوگئی ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کی گئی ہے، جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 22 اکتوبر 2020ء کو ختم ہونے والے ایک ہفتے کے دوران رواں ہفتے 14 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ، 11 اشیا کی قیمتوں میں معمولی کمی اور 26 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 22 اکتوبر 2020ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک میں آلو، ٹماٹر، دال مسور، تازہ دودھ، دہی اور خشک دودھ سمیت دیگر اشیاء مہنگی ہوئیں، اور اسی ہفتے کے دوران پیاز، لہسن، چینی، چکن، دال چنا، دال ماش سمیت 11 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ گذشتہ ہفتے 26 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

گذشتہ ہفتے کے دوران 18 ہزار روپے ماہانہ سے کم آمدنی رکھنے والے غریب طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور 18 ہزار روپے ماہوار سے کم کمانے والوں کیلئے مہنگائی کی شرح 11.37 فیصد رہی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 44 ہزار 175 روپے ماہوار سے زیادہ کمانے والوں کیلئے سب سے کم مہنگائی کی شرح بڑھی اور ان کے لئے مہنگائی کی شرح 7.56 فیصد رہی، جب کہ 23 ہزار تک ماہانہ کمانے والوں کیلئے مہنگائی کی شرح 10 اعشاریہ 68 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو