چاقو بازی کی چیمپیئن 68 سالہ روسی نانی

68 سالہ روسی خاتون اگرچہ نانی اور دادی بن چکی ہیں لیکن وہ خنجر اور چھوٹی کلہاڑیاں پھینکنے کی ماہر ہیں اور اب تک آٹھ مرتبہ قومی چیمپیئن بن چکی ہیں۔

روس کے ایک چھوٹے سے قصبے ساسووو کی رہائشی انتہائی مہارت سے چاقو پھینکتی ہیں جو اپنے ہدف پر جالگتا ہے۔ اسی مہارت کی وجہ سے وہ ایک مرتبہ یورپی اور عالمی چیمپیئن بھی رہ چکی ہیں۔

چووینا 54 برس کی تھیں جب انہوں نے یہ کھیل شروع کیا اور2007ء میں انہوں نے تختے کے نشانات کو چھرے سے ہدف بنانا شروع کیا جس پر انہیں مہارت حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد انہوں نے خود دو افراد کے ساتھ ملکر ’چھری پھینک‘ کلب کی بنیاد رکھی۔ ڈیڑھ ماہ میں وہ ماہر ہوگئیں اور اپنے علاقے میں ایک مقابلہ بھی منعقد کروادیا۔ گولینا کہ مہارت کا حال یہ ہے کہ وہ کئی پولیس اور فوجی افسران کو اپنے شکار کا نشانہ بنانے کی تربیت بھی فراہم کرتی ہیں۔

اس کے بعد وہ ہر ایک مقابلہ جیتنے لگیں اور 2007ء میں پورے روس میں منعقدہ مقابلے میں انتہائی ماہر چاقو باز کو ہرادیا۔ اس کے بعد ایک سال مسلسل تربیت کے بعد انہوں نے 2008ء میں ایک عالمی مقابلے میں حصہ لیا اور وہاں سب سے عمررسیدہ ہونے کے باوجود عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔ 2013ء میں انہوں نے کلہاڑی اور چھری پھینکنے کا یورپی مقابلہ بھی جیت لیا۔ اس طرح اب تک وہ 50 میڈل حاصل کرچکی ہیں۔

اس کے بعد سے اب تک ہرروز گولینا کی شہرت بڑھ رہی ہے لیکن کسی نے بھی ان کی کوئی مالی مدد نہیں کی ہے اور اب وہ کئی مقابلوں میں جانے سے منع کردیتی ہیں کیونکہ ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ پہلے وہ گارمنٹ فیکٹری میں کام کرتی تھی اور اب وہاں سے ملنے والی پینشن پر گزارہ کررہی ہیں جو 220 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو