بابری مسجد کی جگہ پہ مندر

30 ستمبر 2020ء کو بھارت کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسی‘ سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے وہ تمام بتیس زندہ انتہا پسند ہندو رہنما بے گناہ قرار دے دیئے جن کی چھتری تلے اٹھائیس سال قبل 6 ستمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کی گئی تھی۔

ملزمان میں لال کرشن ایڈوانی، بال ٹھاکرے، مرلی منوہر جوشی، کلیان سنگھ، اوما بھارتی، اشوک سنگل جیسے بڑے نام شامل تھے۔ اس طرح بھارتی عدلیہ نے انصاف کو قتل کر کے ظلم و جبر کی نئی تاریخ رقم کر دی۔

بابری مسجد زمانہ قدیم میں مسلمانان ہندوستان کی ہزار ہا مساجد میں سے محض ایک عبادت گاہ تھی۔ آج بابری مسجد مگر بھارت میں اسلام پر ہندومت کے غلبے اور ہندوؤں کی جیت کا استعارہ بن چکی ۔ بابری مسجد کی داستان عیاں کرتی ہے کہ جب طاقت سکہ رائج الوقت بن جائے تو پھر اخلاقیات اور قانون جیسی بڑی طاقتیں بھی اس کے سامنے سرنگوں ہو جاتی ہیں۔ تب طاقت کے ذریعے ہی جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانا بھی ممکن ہوتا ہے۔

سال رواں کے ماہ فروری میں بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے کر مسلمانوں پہ ایک اور ظلم ڈھایا تھا۔یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ مسجد کے نیچے ایک رام مندر موجود تھا۔ایک تاریخی مسجد کو مندر میں بدل دینے کی داستان دراصل انتہا پسند ہندوؤں کی عیاری ،دھوکے بازی،من مانیوں اور چال بازیوں کی ناقابل فراموش تاریخ ہے ۔اس کا تذکرہ بکثرت ہونا چاہیے تاکہ پاکستان کی نئی نسل پڑوسی حکمرانوں کی بد اصلیت اور چانکیائی سرشت سے آگاہ ہو سکے۔

سکیت پر قبضہ

بابری مسجد کی شہادت میں بھارت کے موجودہ حکمران برہمن طبقے کا بنیادی کردار ہے۔ یہ طبقہ ماضی میں بھی ہندوستان کا حاکم تھا مگر مہاویر (جین مت) اور گوتم بدھ(بدھ مت) نے اس کا اقتدار ختم کر ڈالا۔ برہمن حکمران ظالم و جابر تھے۔ انہوں نے رعایا کو اپنا غلام بنا رکھا تھا اور خود آرام و آسائش سے زندگی بسر کرتے ۔ برہما‘ وشنو اور شیو برہمنوں کے بڑے دیوتا تھے۔

ان کی مذہبی کتب میں وید و پران اور رزمیہ داستانوں میں مہا بھارت و رامائن نمایاں تھیں۔نویں صدی عیسوی تک ہندوستان میں برہمنوں اور بدھوں کا ٹکراؤ جاری رہا۔ چوتھی صدی عیسوی میں برہمن گپتا خاندان نے موجودہ اتر پردیش میں بدھیوں کے مشہور شہر‘ سکیت پر قبضہ کر لیا۔وہاں بدھیوں اور جینییوں کے کئی اسٹوپا یا عبادت گاہیں واقع تھیں۔ برہمنوں نے اسٹوپا مندروں میں تبدیل کر دیئے۔ برہمنوں کا عقیدہ تھا کہ وشنو انسانوں کا روپ دھار کر زمین پر آتا ہے جنہیں ’’اوتار‘‘ کہا گیا۔ مشہور اوتاروں میں کرشن اور شری رام چندر شامل ہیں۔ رامائن میںرام چندر کی داستان بیان ہوئی ہے۔ اس میں ایودھیا کو رام کی جائے پیدائش بتایا گیا ۔ گپتا برہمنوں نے بدھیوں کے خلاف جیت کی خوشی میں سکیت کو ایودھیا کا نام دے ڈالا۔

دسویں صدی کے بعد ہندوستان میں مسلمان نئی قوت بن کر آ پہنچے۔ تب ہندوستان مختلف ریاستوں میں تقسیم تھا۔ مسلمانوں نے مقامی آبادی کے عدم اتفاق و اتحاد سے فائدہ اٹھایا اور رفتہ رفتہ ہندوستان کے بیشتر علاقے فتح کر لیے۔انہیں ملکی نظم و نسق چلانے کی خاطر مقامی سرداروں کا تعاون درکار تھا۔

اسی باعث کئی برہمن سردار مسلمانوں کے مشیر و وزیر بن گئے۔شمالی ہندوستان میں برہمنوں کے دو بڑے مذہبی گروہ تھے۔ ایک گروہ وشنو اور دوسرا شیو کو اپنا مرکزی دیوتا مانتا تھا۔ ان دونوں گروپوں کے مابین اکثر لڑائیاں ہوتی تھیں۔وجہ یہ تھی کہ جو گروہ زیادہ مندر بنا لیتا‘ اس کی آمدن بھی بڑھ جاتی۔ آمدن بڑھانے کی خاطرہی دونوں گروہوں نے ایودھیا میں کئی مندر تعمیر کر لیے۔ چونکہ ایودھیا رام چندر کی خیالی جائے پیدائش تھا لہٰذا وہاں اس دیوتا سے منسوب مندر ہی سب سے زیادہ مشہور ہوئے۔ حتی کہ بعض ایسے مندر بھی وجود میں آ گئے جن کے بنانے والے کا دعویٰ تھا کہ اسی جگہ رام چندر نے جنم لیا تھا۔ ایسے مندر ’’جنم استھان مندر‘‘ کہلائے۔ رام کے پیروکار ان مندروں میں زیادہ جاتے تھے‘ اس لیے ان کی آمدن (بہ شکل چڑھاوے و نقدی) بھی زیاد ہ تھی۔

بابری مسجد کی تعمیر

مسلمانوں کی حکومت میں ایودھیا صوبہ او دھ کا صدر مقام بن گیا۔ بعض غیر مسلم بھی اس صوبے کے گورنر رہے۔مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات (1707ء ) کے بعد جلد ہی اس صوبے پر نواب سعادت علی خان کے خاندان کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس خاندان کے نواب بھی مقامی برہمن سرداروں کی مدد سے ریاستی نظم و نسق سنبھالتے رہے۔ انہوںنے اپنے سرداروں کو خوش کرنے کی خاطر وسیع زمینیں الاٹ کیں تاکہ وہاں مندر تعمیر ہو سکیں۔ مسلم حکومت کی عطا کردہ زمین پر پہلا مندر بابری مسجد کے عین سامنے تعمیر ہوا۔

یہ مندر ’’جنم استھان مندر‘‘ کہلایا۔ وجہ یہ کہ ایودھیا میں ’’رام کوٹ‘‘ نامی علاقے میں تعمیر ہوا۔ رام کے پیروکاروں کا عقیدہ تھا کہ رام کوٹ علاقے کے کسی مقام پر ہی رام نے جنم لیا تھا۔بابری مسجد بھی اسی علاقے میں بنائی گئی تھی۔بابری مسجد پہلے مغل بادشاہ بابر کے اودھ میںگورنر‘ میر باقی نے 1529-28ء میں بنوائی تھی۔ اس بات کی کوئی ٹھوس شہادت موجود نہیں کہ یہ مسجد کوئی مندر یا اسٹوپا گرا کر تعمیر کی گئی۔ البتہ یہ ممکن ہے اس جگہ کسی قدیم عبادت گاہ کے کھنڈرات موجود ہوں۔

اور یہ بھی امکان ہے کہ مسلم ماہرین تعمیرات نے ان کھنڈرات کا ملبہ بابری مسجد کی تعمیر میں استعمال کر لیا۔مغل بادشاہ بابر ہندوستان میں غیر مسلموں سے نبردآزما رہے۔ اپنی آپ بیتی بابر نامہ میں وہ فخریہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے فلاں فلاں جنگوں میں بت پرستوں کو شکست دی۔ ایودھیا رام دیوتا کے پرستار برہمنوں کا ایک بڑا مرکز تھا۔ اگر بابر بادشاہ وہاں کوئی مندر ڈھا کر مسجد تعمیرکراتے تو یقیناً اس کارنامے کا ذکر اپنی آپ بیتی میں ضرور کرتے۔ لیکن بابر نامہ میں ایسا کوئی ذکر موجود نہیں۔

تلسی داس مشہور سنکسرت برہمن شاعر گزرا ہے۔ اس نے رام دیوتا کے اعزاز میں ’’رام چترا مانس‘‘ نامی طویل نظم 1576ء میں تخلیق کی۔ اس نظم میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ ایودھیا رام کا جنم استھان مندر گرا کر کوئی مسجد بنائی گئی۔اگر ایسا واقعہ ظہور پذیر ہوتا تو وہ ضرور اپنی نظم میں اس کا تذکرہ کرتا۔ اسی طرح اکبر بادشاہ کا مورخ‘ ابوالفضل اپنی کتاب ’’آئین اکبری‘‘ میں لکھتا ہے کہ ایودھیا بت پرستوں کی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے۔ مگر اس میں بھی یہ درج نہیں کہ وہاں کوئی مندر ڈھا کر مسجد بنائی گئی۔ہندو مورخین کا دعوی ہے کہ ’’سکند پران‘‘میں یہ ذکر موجود ہے کہ ایودھیا میں رام کا جنم استھان مندر بنایا گیا۔سکند پران کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ مذہبی کتاب چھٹی سے چودہویں صدی عیسوی کے مابین لکھی گئی۔مگر اس کتاب کا قدیم ترین مکمل قلمی مخطوطہ صرف دو سو سال پرانا ہے۔اس لیے سکند پران کو مستند ماخذ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بابری مسجد کے معاملے میں ہندو مورخین اور ماہرین اثریات تین آرا رکھتے ہیں۔اول رائے مسلمانوں سے متفق ہے کہ اسے میرباقی نے تعمیر کرایا۔دوسری رائے یہ کہ مسجد کو اورنگ زیب عالمگیر نے بنوایا تھا۔تیسری رائے یہ کہ بابری مسجد دراصل جنم استھان مندر تھا۔اسے1717ء کے بعد مسلمانوں نے زبردستی مسجد میں تبدیل کر دیا۔تیسری رائے کے حامی ہندو مورخین بطور ثبوت ایک نقشہ پیش کرتے ہیں۔ان کا دعوی ہے کہ یہ نقشہ راجا جے سنگھ دوم(متوفی 1743ء )نے تیار کرایا تھا۔یہ راجا اورنگ زیب عالمگیر کا ایک سردار تھا۔اس نقشے میں بابری مسجد سے ملتا جلتا مندر دکھایا گیا ہے۔مگر مسلمان مورخین کی رو سے یہ ایک جعلی نقشہ ہے۔اس کو بیسویں صدی میں تیار کیا گیا تاکہ ہندو مورخین مندر کی موجودگی کا اپنا کیس مضبوط کر سکیں۔

انگریز کا ایجنٹ

آسٹریا میں پیدا ہونے والا سیاح جوزف ٹیفن تھیلر (متوفی 1785ء) پہلا مصنف ہے جس کی یادداشتوں میں باقاعدہ یہ ذکر ملتا ہے کہ بابری مسجد رام دیوتا کی جائے پیدائش پر واقع ہے۔ جوزف ٹیفن تھیلر (Joseph Tieffenthaler)ایک یسوعی پادری تھا۔وہ 1740ء میں ہندوستان آیا اور پھر اپنی موت تک یہیں مقیم رہا۔ وہ 1766ء میں ایودھیا پہنچا۔ تب انگریز ریاست پر قبضے کی خاطر سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ یہ یقینی ہے کہ جوزف ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایجنٹ بن گیا۔کمپنی کے انگریز مسلمانوں اور بت پرستوں کے مابین مذہبی اختلافات کو ہوا دے رہے تھے تاکہ ان کے درمیان لڑائی چھڑ سکے۔ اس لڑائی سے فائدہ اٹھا کرکمپنی کو پھر مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کا موقع مل جاتا۔

1775ء تک آخر کمپنی نے اودھ پر قبضہ کر لیا۔ اب نواب انگریزوں کی محض کٹھ پتلی بن گیا۔ انگریز کی اصل جنگ مسلمان حاکموں سے تھی‘ اس لیے وہ مسلمانوں کے مخالف برہمن سرداروں کے ساتھی بن گئے۔ ویسے بھی انہیں ریاستی نظم و نسق چلانے کی خاطر برہمنوں کا ساتھ درکار تھا۔ یوں انگریز حکومت میں برہمن ریاست اودھ میں پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہو گئے۔ایودھیا میں دیوتا رام کے پیروکار ’’رام نندنی‘‘ کہلاتے تھے۔ جنم استھان مندر کے علاوہ ہنومان گڑھی ان کا ایک اور اہم مندر تھا۔ یہ بھی بابری مسجد کے قریب ہی واقع تھا۔

اس مندر کی تعمیر کے لیے پہلے نواب اودھ‘ سعادت علی خان نے رام نندیوں کو زمین عطا کی تھی۔ جب انگریزوں کی آمد سے رام نندنی طاقتور ہو گئے تو 1852ء کے لگ بھگ انہوں نے قریب ہی واقع قناتی مسجد پر قبضہ کر لیا۔یہ ایک عارضی جگہ تھی جہاں مسلمان بہ موقع عیدین نماز ادا کرتے تھے۔ اس جگہ پہ رام نندیوں کے قابض ہونے سے قدرتاِ مسلمانوں میں غم و غصّہ پھیل گیا۔ہنوومان گڑھی رام نندیوں کے ایک ذیلی فرقے‘ نرموہی اکھاڑے کی ملکیت تھا۔

مسلمانوں نے پہلے نواب سے اپیل کی کہ مسجد نرموہی اکھاڑے سے واگزار کرائی جائے۔ مختلف فرقے سے تعلق رکھنے والے نواب نے مگر سنی مسلمانوں کی اپیل کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اس باعث مسلمانوں نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔1853ء سے 1855ء تک انہوںنے نرموہی اکھاڑے کے خلاف مختلف لڑائیاں لڑیں۔ اس جہادی تحریک کے قائدین میں شاہ غلام حسین اور مولوی امیر علی امیٹھوی نمایاں تھے۔ دوران جہاد مولوی امیر علی شہادت کے درجے پر فائز ہو ئے۔ مسلمانوں کی تعداد رام نندیوں کے مقابلے میں کم تھی۔ مزید براں حکومت بھی ان کی مخالف بن گئی۔ اسی لیے قناتی مسجد کی زمین نرموہی اکھاڑے سے واگزار نہیں کرائی جا سکی۔

قبضے کی مہم کا آغاز

مسلمانوں کی بے بسی اور لاچارگی دیکھ کر نرموہی اکھاڑے نے ان پر وار کرنے کا فیصلہ کیا۔اکھاڑے کے رہنماؤں نے دعوی کر دیا کہ بابری مسجد شری رام کی جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی ہے۔یہ دعوی کر کے وہ مسلمانوںسے حملے کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ حکومت میں بیٹھے وزیر اور انگریز مسلمانوں کے مخالف تھے‘ اس لیے انہوں نے نرموہی اکھاڑے کا دعوی تسلیم کر لیا۔ چنانچہ حکومت نے اکھاڑے کو بابری مسجد کے احاطے میں ’’رام چبوترہ‘‘ اور ’’سیتا کی رسوئی‘‘ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔

نرموہی اکھاڑے کے کارکن رام چبوترے پر دیوتا رام کا بت رکھ کر اس کی پوجا کرنے لگے۔ رام چبوترے اور سیتا کی رسوائی کی تعمیر کو رام نندیوں کی زبردست فتح سمجھا گیا۔ اب ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔ وہ بابری مسجد پر قبضے کے خواب دیکھنے لگے۔ تاہم مسلمانوں کی قانونی چارہ جوئی کے باعث ان کا خواب جلد شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ رام نندنی البتہ وقتا فوقتا عدالتوں سے رجوع کرتے رہے تاکہ مسجد پرقابض ہو سکیں۔ 1934ء میں رام نندیوں نے گاؤ کشی تنازع پر ہونے والے فساد سے فائدہ اٹھا کر بابری مسجد پر حملہ کر دیا۔ انہوںنے مسجد کے درود یوار کو نقصان پہنچایا اور وہاں نصب تختیاں اکھاڑ دیں جن پر درج تھا کہ یہ مسجد بابر بادشاہ کے دور میں تعمیر ہوئی تھی۔

1856ء میں لکھنو سے مرزا جان نامی کسی پُراسرار مصنف کی کتاب ’’حدیقتہ شہدا‘‘ شائع ہوئی۔ اس میں مرزا جان نے دعوی کیا کہ ایک مغل شہزادی نے ’’صحیفہ چہیلی نساء بہادر شاہی‘‘ نامی کتاب تحریر کی تھی جس کا وہ مطالعہ کر چکا۔ اس میں شہزادی لکھتی ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر نے رام کا جنم استھان مندر ڈھا کر بابری مسجد تعمیر کرائی۔ گویا مرزا جان نے نیا شوشہ چھوڑ دیا۔ یہ شخص یقیناً ایسٹ انڈیا کمپنی یا حکومت اودھ کا ایجنٹ تھا جس نے سنی مسلمانوں کا مقدمہ کمزور کرنے کے لیے جھوٹا دعویٰ کر ڈالا ۔

دور جدید کے ہندو مورخین درج بالا دونوں کتب کا حوالہ دے کر ثابت کرنے کی سعی کرتے ہیں کہ بابری مسجد ایک مندر کی جگہ تعمیر ہوئی۔حالانکہ نامعلوم شہزادی کی کتاب’’صحیفہ چہیلی نساء بہادر شاہی‘‘ کا کوئی مخطوطہ وجود ہی نہیں رکھتا۔اسی طرح مرزا جان کے واضح حالات بھی نہیں ملتے۔حقیقت یہ ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر نے ایودھیا میں ایک مختلف مسجد تعمیر کرائی تھی جو آج بھی موجود ہے۔ وہ ’’عالمگیری مسجد‘‘ کہلاتی اور زبوں حالی کا شکار ہے۔

انیسویں صدی میں لکھنو سے مولوی عبدالکریم نامی ایک مصنف کی کتاب ’’گم گشتہ حالات ایودھیا‘‘ شائع ہوئی۔ اس میں موصوف نے دعوی کیا کہ وہ موسی عاشقین نام کے ایک بزرگ کی اولاد میں سے ہیں۔کتاب میں مصنف لکھتے ہیں، بابر نے موسی عاشقین نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ہندوستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا تو ایو دھیا میں جنم استھان مندر ڈھا کر مسجد تعمیر کرائے گا۔ اس طرح عبدالکریم صاحب نے بھی دور جدید کے ہندو مورخین کو مندر جنم استھان کی موجودگی کا ایک ثبوت دے ڈالا۔ حالانکہ بابر اور موسی عاشقین کی ملاقات کا قصّہ محض ایک روایت پر مبنی ہے۔

بت رکھے گئے

بابری مسجد کی تاریخ میں اگلا اہم موڑ دسمبر1949ء میں آتا ہے۔ تب تک ہندوستان کے برہمن سردار انگریزوں کی مدد سے عام بت پرستوں کو ایک نئے مذہب ’’ہندومت‘‘ کے پلیٹ فارم پر جمع کر چکے تھے۔ یہ دراصل برہمن مت کا نیا چربہ تھا۔ برہمنوں کی تب دو بڑی جماعتیں تھیں… کانگریس اور ہندو مہاسبھا۔آخر الذکر جماعت کے برہمن بھارت میں ہندوحکومت کا قیام چاہتے تھے۔جب گاندھی جی ان سے متفق نہ ہوئے تو 1947ء میں مہا سبھائیوں نے انہیں قتل کر دیا۔ اس قتل کے باعث مہا سبھا پر پابندی لگ گئی۔ نیز پورے بھارت میں اس کی مقبولیت میں بھی کمی آئی۔

اوآخر 1949ء میں ہندو مہا سبھا کے صدر‘ دمودر ساورکر نے دیگر لیڈروں کے ساتھ مل کر اپنی جماعت کو بھارت میں دوبارہ مقبول بنانے کا پلان بنایا۔ منصوبہ یہ تھا کہ بابری مسجد میں شری رام کے بچپن کا بت (رام لیلا) رکھ دیا جائے۔ پھر یہ چرچا ہو کہ شری رام نے مسجد میں جنم لیا ہے۔ یوں ایک نیا مذہبی تنازع اٹھ کھڑا ہوتا۔ مہا سبھا انہی مذہبی تنازعات کے ذریعے عام ہندوؤں کو اپنی طرف کھینچنے کی کوششیں کرتی تھی۔

دمورد سادرکر نے منصوبے پر عمل درآمد کا کام ڈگوجے ناتھ کے سپرد کیا۔ یہ شخص گورکھ پور کے مشہور گورکھ ناتھ مندر کا مہنت اور اتر پردیش میں مہا سبھا کا صدر تھا۔ یہ بڑا کائیاں اور عیار رہنما تھا۔ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہچانے کے لیے اس نے افسر شاہی کی خدمات حاصل کرلیں۔ تب علاقے کا ضلعی مجسٹریٹ کے کے نائر اور سٹی مجسٹریٹ گرو دت سنگھ ‘ دونوں انتہا پسند ہندو تھے۔

پروگرام یہ بنا کہ ایودھیا میں تلسی داس کی نظم رام چترامانس دس دن تک عوام کو سنائی جائے۔آخری دن رات کو مہاسبھائی کا رکن بابری مسجد میں رام لیلا اور سیتا کے بت رکھ دیں۔ پھر صبح سویرے یہ اعلان کر دیا جائے کہ مسجد میں رام کا جنم ہوچکا۔ اسی منصوبے پر عمل درآمد ہوا اور 22دسمبر1949ء کی رات مہا سبھائی کارکنوں نے زبردستی مسجد کے مرکزی ہال میں منبر پر بت رکھ دیئے۔ انہوں نے موذن اصغر علی کو پیٹا اور انہیں باہرنکال دیا۔ اسی طرح افسر شاہی کی ملی بھگت سے انتہا پسند ہندوؤں نے آخر کار بابری مسجد پر قبضہ کر لیا۔

29 دسمبر1949ء کو نئے سٹی مجسٹریٹ ،مرکنڈے سنگھ نے بابری مسجد کو متنازع قرار دے کر مقفل کر دیا۔وہاں اب مسلمان نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ تاہم ہندوؤں کو مسجد میں ’’جنم لینے والے‘‘ بتوں کی پوجا پاٹ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ 16 جنوری 1950ء کو مقامی مہاسبھائی لیڈر‘ گوپال سنگھ نے سول جج کو یہ درخواست دی کہ ہندؤں کو بابری مسجد میں بتوں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔ اسی طرح طاقت کے بل بوتے پر قانون کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بابری مسجد پر قبضہ کرنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔

بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو نے مگر مہاسبھائیوں کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیئے کیونکہ وہ اپنے مسلم دوستوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔اسی لیے بابری مسجد قانونی مقامات کی زد میں آ کر مسلسل مقفل رہی۔ اس بندش سے فائدہ اٹھا کر رفتہ رفتہ انتہا پسند ہندوؤں نے یہ نیا جھوٹ گھڑ لیا کہ مسلمان بابری مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے اور یہ کہ وہ صدیوں سے ویران پڑی تھی۔ یہ جھوٹا نظریہ بھی اپنا دعویٰ مضبوط بنانے کی خاطر گھڑا گیا۔

رام مندر سیاسی ہتھیار بن گیا

بابری مسجد شہید کرنے کی تاریخ کا اگلا اہم مرحلہ اور کردار 27جولائی 1984کو سامنے آیا۔اس دن ڈگوجے ناتھ کے جانشین،مہنت اودیہ ناتھ نے ایک تنظیم’’شری رام جنم بھومی مکتی یگنا سمیتی‘‘(Sri Ramjanmabhoomi Mukti Yagna Samiti )کی بنیاد رکھی۔اس تنظیم کا واحد مقصد بابری مسجد شہید کر کے وہاں رام مندر تعمیر کرنا تھا۔اسی سال 7اکتوبر کو تنظیم کے زیراہتمام ایودھیا میں انتہا پسند ہندوؤں کا بہت بڑا اکٹھ منعقد ہوا۔اس میں سنگھ پریوار(شدت پسند ہندو جماعتوں)کے ہزارہا کارکن شریک ہوئے۔انھوںنے بابری مسجد کی سمت دیکھتے ہوئے شپت اٹھائی کہ وہ رام مندر بنا کر ہی دم لیں گے۔

اگلے دن8اکتوبر کو تنظیم نے ایک بڑے جلوس کا اہتمام کیا۔یہ جلوس ایودھیا سے چل کر لکھنؤ میں ختم ہوا۔مدعا یہ تھا کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندو عوام کی ہمدردیاں اور حمایت حاصل ہو سکے۔اس جلوس کو عام ہندوؤں نے بہت پذیرائی بخشی جس سے انتہا پسند لیڈروں کے حوصلے بڑھ گئے۔15سے 31اکتوبر تک تنظیم کے زیراہتمام یوپی کے تمام شہروں میں رتھ یاترائیں کی گئیں۔ان میں لاکھوں ہندو شریک ہوئے۔

اس وقت تک انتہا پسند ہندو ’’بی جے پی‘‘(بھارتیہ جنتا پارٹی) کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنا چکے تھے مگر وہ عوام میں مقبولیت پانے میں ناکام رہی تھی۔اب آر ایس ایس اور بی جے پی کے رہنماؤں کو محسوس ہوا کہ وہ رام مندر تعمیر کرنے کی مہم اپنے ہاتھوں میں لے لیں تو کروڑوں ہندووں کو اپنے پلیٹ فارم پر جمع کر سکتے ہیں۔اسی لیے انھوں نے قومی سطح پہ رام رتھ یاترائیں نکالنے کا بیڑا اپنے سر لے لیا۔لال کرشن ایڈوانی،جوشی،سندھیا،نریندر مودی اور سنگھ پریوار کے دیگر لیڈر جوش وخروش سے یہ جلوس نکالنے لگے۔ان کا خیال درست ثابت ہوا اور چند ہی برس میں بی جے پی ہندو عوام کی من پسند پارٹی بن گئی۔

1984کے الیکشن میں بی جے پی صرف دو سیٹیں جیت پائی تھی۔الیکشن 1989میں وہ ’’پچاسی‘‘جبکہ ایکشن 1991میں ’’ایک سوبیس‘‘نشستیں جیت کر بھارت کی بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔الیکشن1991ہی میں بی جے پی نے یوپی ریاست میں بھی حکومت بنا لی۔مسلمانوں کا کٹر دشمن،کلیان سنگھ وزیراعلیٰ بن گیا۔اب ہندو عوام میں مذید مقبولیت پانے کی خاطر بابری مسجد شہید کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔مقصد یہ تھا کہ سنگھ پریوار وفاق میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے۔چناں چہ حکومت،افسر شاہی اور فوج…ہندو اکثریت کے تینوں ستونوں نے مل کر مسلمانان ہندکو ایک تاریخی عبادت گاہ سے محروم کر دیا۔بعد ازاں دو ہزار سے زائد مسلمان شہید بھی کیے گئے۔

بابری مسجد کی شہادت نے پی جے پی کو ہندو عوام میں مزید مقبول بنا دیا۔وہ صرف سات سال بعد بھارت کی حکمران بن بیٹھی۔2003میں انتہا پسندحکومت نے محکمہ آثار قدیمہ کو بابری مسجد کے نیچے کھدائی کرنے کا حکم دیا۔حکومت کے شدید دباؤ پر ماہرین آثارقدیمہ نے اپنی رپورٹ میں لکھ دیا کہ مسجد کے نیچے سے ایک مندر کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں۔اسی رپورٹ کو بنیاد بناکر ماہ فروری 2020 میں بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا حکم دے ڈالا۔یوں 1852 سے شرو ہونے والی انتہا پسند برہمن رام نندیوں کی مہم اونچے نیچے راستوں سے گذرتے ہوئے ایک سو اٹھاون سال بعد اختتام کو پہنچی۔مگر اس نے حکومتی سرپرستی میں دن دیہاڑے انصاف و قانون کو قتل کر ڈالا۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیہِ رَاجِعْونَ۔

ہندو اکثریت قائداعظم ؒکی نظر میں

قائداعظم محمد علی جناح آغاز میں کئی برس تک ہندو مسلم اتحاد کے ایک بڑے داعی رہے۔یہ اتحاد کرانے کے لیے انھوں نے بہت کوششیں کیں۔1916میں کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین لکھنو پیکٹ کرایا۔مقصد یہ تھا کہ دونوں اقوام متحد ہو کر انگریز غاصبوں سے نبردآزما ہو سکیں۔حتی کہ 1928ء میں مسلمانوں کو یہ تجویز دے ڈالی کہ وہ ہندو قوم سے اتحاد کی خاطر جداگانہ انتخابی حلقوں کے مطابلے سے دستبردار ہو جائیں۔یہ تجویز پیش کر کے قائد نے اپنے سیاسی کیرئر کو داؤ پر لگا دیا تھا۔جب کانگریس نے ان کی تجویز مسترد کر ڈالی تو بعض مسلم لیڈروں نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔قائد بددل ہو کر انگلستان چلے گئے۔

وہ پھر پانچ چھ سال بعد ہی واپس آئے۔ بانی پاکستان بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی طاقت کا عملی تجربہ اس وقت ملا جب 1937ء تا 1939ء کانگریس سات صوبوں میں حکومت کرتی رہی۔ اس دوران مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو دق کیا گیا۔ مثلاً ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بندے ماترم کا ترانہ پڑھیں۔ گاؤ کشی سے پرہیز کریں۔ مساجد میں اذان نہ دیں۔ مذہبی جلوس نہ نکالیں۔ بازاروں میں اسلامی لباس نہ پہنیں۔ غرض حکومت سنبھالتے ہی ہندو اکثریت زبردستی اقلیتی مسلمانوں کو اپنے ڈھب پر چلانے پہ مجبور کرنے لگی۔جن علاقوں میں مسلمانوں نے مزاحمت کی وہاں ہندو غنڈوں نے ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔

وطن عزیز کی نئی نسل کو اپنے بزرگوں کا شکر گذار ہونا چاہیے کہ انھوں نے اپنی زبردست جدوجہد سے اور بڑی قربانیاں دے کر پاکستان جیسا عظیم اور خوبصورت تحفہ عطا کیا۔یہ موجودہ نسل کا فرض ہے کہ وہ اس تحفے کو خوب ترقی دے اور اقوام عالم میں ایک مثالی مملکت بنا ڈالے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو