بلین ٹری سونامی منصوبہ،

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خصوصی آڈٹ رپورٹ میں خیبر پختونخوا کے بلین ٹری سونامی منصوبے میں 41 کروڑ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کو پیش کردی گئی ہے اور بہت جلد اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔

خصوصی آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبہ کے پہلے مراحل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئیں، محکمہ جنگلات نے ایک پودا 9 روپے کے بجائے 17 روپے میں خریدا۔

رپورٹ کے مطابق 36 فیصد بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کا ٹارگٹ مس ہوگیا اور قومی خزانے کو 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، اس کے علاوہ 226 چھوٹے نرسری پلانٹس بند کرنے سے 10 کروڑ کا نقصان ہوا جبکہ منصوبے میں تقریباً 2 کروڑ 12 لاکھ روپے تک ڈیلی ویجز مزدوروں کو ادا کیےگئے جس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں۔

آڈیٹر جنرل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آڈیٹرز نے رقم کنٹریکٹرز سے لے کر واپس قومی خزانے میں جمع کرانے کی سفارش کی تھی جس پر تاحال عمل نہیں ہوا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو