سپریم کورٹ کا ملزمان کی رہائی کی معطلی میں مزید توسیع سے انکار

فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے ڈینیل پرل کیس میں عمر شیخ سمیت دیگر ملزمان کی رہائی کی معطلی میں مزید توسیع سے انکار کر دیا۔

سپریم کورٹ میں ڈینیل پرل قتل کیس کی اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کی جانب سے ملزمان کی رہائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ مختاراں مائی کیس میں ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کے دوران رہائی روکنے کا عدالت کو آج تک افسوس ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپیلوں میں ملزمان بری ہو گئے اور عدالتی حکم کی وجہ سے انہیں جیل میں مزید وقت گزارنا پڑا جس کا کوئی ازالہ نہیں ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے کہا کہ کہ عمر شیخ اور دیگر ملزمان کی رہائی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے مزید 3 ماہ کے لیے روک دی گئی ہے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ عدالت کے باہر کیا ہو رہا ہے، عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے عمر شیخ اور کیس کے دیگر ملزمان کی رہائی کا حکم مزید معطل کرنے سے انکار کر دیا۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 21 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

کیس کا پس منظر

امریکی صحافی ڈینیل پرل کو 2002ء میں کراچی سے اغواء کے بعد قتل کر دیاگیا تھا جس پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے احمد عمر شیخ کو سزائے موت اور دیگر 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینیل پرل قتل کیس میں عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل جب کہ 18 برس بعد 3 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

وفاق کا اپیل کیلئے بہترین ذرائع بروئے کار لانے پر زور

دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی امریکی صحافی ڈینیل پرل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر سندھ حکومت سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل کے لیے بہترین ذرائع بروئے کار لانے پر زور دیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر امریکا سمیت عالمی صحافتی تنظیموں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا جب کہ حکومت سندھ نے رہائی پانے والے تینوں ملزمان کو نقص امن کے قانون کے تحت 3 ماہ کے لیے حراست میں لیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو