سائنسدانوں نے لکڑی سے بنا شفاف شیشہ ایجاد کرلیا

زرعی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ہلکی پھلکی لکڑی کو کئی مراحل سے گزار کر انتہائی شفاف بنادیا ہے اور اس ماحول دوست شیشے کو استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔

امریکی محکمہ زراعت، یو ایس ڈی اے کے ماہرین نے کئی اداروں کے سائنسدانوں کے ساتھ ملکر کئ برس تک اس پر کام کیا ہے۔ اب اس ٹیم کا کہنا ہے کہ شفاف شیشہ مکمل طور پر درخت کے اجزا سے تیار کیا گیا ہے جس کے لیے بالسا درخت کا انتخاب کیا گیا ہے۔ بالسا لکڑی سے ماڈل ہوائی جہاز بھی بنائے جاتے ہیں کیونکہ یہ ہلکی، مضبوط اور انتہائی ہموار لکڑی ہوتی ہے۔

توقع ہے کہ اس طرح سے تیارشدہ شیشے ہلکے، ارزاں اور بہت حد تک ماحول دوست ہوں گے۔ دوسری جانب وہ حرارت جذب کرکے گرمی میں کسی کمرے کو تندور بنانے کی بجائے ٹھنڈا رکھیں گے کیونکہ اس سے حرارت کا تبادلہ بھی ممکن ہوگا۔ دوسری جانب روایتی شیشے کی تیاری ماحول پر بھی بوجھ بنی ہوئی ہے۔ عالمی شیشہ سازی کی صنعت سالانہ 25000 میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی خارج کرتی ہے۔

چوبی شیشے کی تیاری میں ہلکی بالسا لکڑی کو پہلے آکسیڈائزنگ غسل دیا گیا۔ اس کے لیے الکحل کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کے بعد کئی طرح کی بلیچنگ سے گزار کر اسے شفاف تر بنایا گیا۔ اس کے بعد پولی وینائل الکحل سے گزار کر لکڑی کو حتمی شیشہ بنایا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شیشہ مڑسکتا ہے لیکن عام شیشے کی طرح نوکدار کرچیوں میں تبدیل نہیں ہوتا۔ تاہم تمام فوائد کے باوجود لکڑی کے شفاف شیشے کو بڑی مقدار میں بنانے کے لیے مزید وقت اور ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ بالسا لکڑی کا درخت تیزی سے بڑھتا ہے اور اس کی افزائش کے بعد شفاف شیشہ بنایا جاسکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو