نواز شریف پر مقدمے کے معاملے پر وزیراعظم اور وزراء کے درمیان اختلاف

وفاقی کابینہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے معاملے پر تقسیم ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نوازشریف سمیت ن لیگی اراکین کے خلاف ایف آئی آر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا کہ غداری کی ایف آئی آر سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔

ذرائع کے مطابق تین اراکین نے ایف آئی آر کو منطقی انجام تک پہنچانے کا مشورہ دیا جب کہ ان افراد میں دو وفاقی وزراء اور ایک معاون خصوصی شامل ہیں جنہوں نے ایف آئی آر کی حمایت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سمیت دیگر وزراء نوازشریف کے خلاف ایف آئی آر کے مخالف ہیں اور وزراء کی رائے ہے کہ غداری سے متعلق ایف آئی آر ختم ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف سمیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف بغاوت کا مقدمہ لاہور میں درج کیا گیا۔

مقدمہ ایک شہری بدر رشید کی جانب سے تھانہ شاہدرہ میں پاکستان پینل کوڈ کی مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت درج کرایا گیا جس میں 40 سے زائد لیگی رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

مقدمے میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق ،احسن اقبال، پرویز رشید، راجہ ظفر الحق، رانا ثنا اللہ، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ترمذی اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ سمیت ن لیگ کے 40 رہنما بھی نامزد کیے گئے ہیں۔

بغاوت کے مقدمے پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جب کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کا مدعی بدر رشید ہیرا کریمنل ریکارڈ یافتہ ہے اور پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ راوی ٹاؤن کا صدر ہے اور اس کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور و دیگر رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو