60 سال سے زائد عمر کے افراد کی مالی امداد اور علاج اب حکومت کرائے گی

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بزرگ شہریوں سےمتعلق حکومتی بل منظور کر لیا۔

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جس میں بزرگ شہریوں سےمتعلق حکومتی بل کی منظوری دی گئی۔ ذیلی کمیٹی سفارشات مرکزی کمیٹی کو بھجوائے گی۔

بل کے متن کے مطابق اسلام آباد میں بزرگ شہریوں کو مراعات اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور دارالشفقت کے نام سے اولڈ ایج ہوم بنایا جائے گا جس میں میڈیکل سہولیات اور تفریح فراہم کی جائے گی۔

بل میں کہا گیا ہے کہ 60 سال سے زیادہ عمر کے شہری اولڈ ایج ہوم کیلئے درخواست دے سکیں گے جب کہ بزرگ شہری میوزیم، لائبریریز اور پارکس میں مفت جاسکیں گے۔

بل کے مطابق حکومت مستحق بزرگوں کی مالی امداد کرے گی اور علاج بھی کرائے گی۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ ادویات، میڈیکل آلات، لیبارٹری ٹیسٹس اور فزیشنز کی فیسوں پر20 فیصد رعایت ہوگی جب کہ 20 فیصد ڈسکاؤنٹ تمام نجی اور سرکاری اداروں پر لاگو ہوگا۔

اس کے علاوہ ائیرلائنز، ریلوے اور سرکاری ٹرانسپورٹ پربھی بزرگ شہریوں کو 20 فیصد رعایت ہوگی۔

بل کے مطابق سینیئر شہریوں کیلئے خصوصی فنڈ قائم ہوگا، جس میں حکومت سالانہ 5 کروڑ روپے دے گی جب کہ بزرگ شہریوں کیلئے سینیئر سیٹزن کونسل بنائی جائے گی جو بزرگ شہریوں کے حقوق کا تحفظ اور دیگر امور سرانجام دےگی۔

کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ نجی اسپتالوں میں غفلت سے بزرگ شہری کی وفات پر اسپتال پر 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو