نوازشریف کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہیے تھی، گورنر پنجاب

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا ہے کہ اُن پر نواز شریف کیخلاف مقدمہ درج کروانے کا الزام افسوس ناک ہے، انہوں نے کبھی کسی کو غدار نہیں کہا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے نواز شریف سمیت دیگر ن لیگی رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کروانے والے شہری بدر رشید کے حوالے سےکہا کہ ‘بدر رشید جیسے لوگ جماعتیں بدلتے رہتے ہیں، ان کی رائے میں نوازشریف کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہیے تھی’۔

گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ بدر رشید کی تصاویر مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی موجود ہیں، میرے پاس اچھے اور برے لوگ دونوں آتے ہیں، تحریک انصاف اس مقدمے سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ مقدمے کے محرکات سامنے آنے چاہئیں اور سوشل میڈیا کو قابو میں کرنے کے لیے حکمت عملی مرتب ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر پر بغاوت کا مقدمہ لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں درج کیا گیا تھا جس میں مسلم لیگ (ن) کی دیگر قیادت کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے، جب کہ حکومت نے اس مقدمے سے لاتعلقی کا اظہارکیا ہے۔

مقدمے کا مدعی بدر رشید خان ہیرا پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ راوی ٹاؤن کا صدر ہے اور اس کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے ساتھ ملاقاتوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

اس حوالے سے ترجمان گورنر ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ بغاوت کے مقدمے کے مدعی کا گورنر پنجاب سے کوئی تعلق نہیں، گورنر پنجاب سے ہزاروں افراد ملاقات کرتے رہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو