معالجین نے ٹرمپ کی اسپتال سے جلد چھٹی کا امکان ظاہر کردیا

واشنگٹن ڈی سی: کورونا وائرس میں مبتلا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے معالج کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ کا آکسیجن لیول گرگیا تھا اور انہیں سانس میں دشواری ہوئی تاہم اب ان کی صحت میں بہت بہتری آرہی ہے جس کے بعد انہیں اسپتال سے پیر تک چھٹی دی جاسکتی ہے۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف نے صدر ٹرمپ کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہارکیااورکہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کےدوران صدر ٹرمپ کی صحت کے حوالے سے اہم علامات تشویش ناک تھیں اور آئندہ اڑتالیس گھنٹے ان کی صحت کے حوالے سے اہم ہیں۔

وائٹ ہاؤں کے معالج شین کونلی نے اتوار کو صحافیوں کو صدر ٹرمپ کی صحت کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بیماری میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ صدر کے خون میں آکسیجن کی مقدار دو مرتبہ مطلوبہ سطح سے نیچے آچکی ہے تاہم انھیں علاج معالجہ فراہم کیا جارہا ہے۔ صدر کے معالجین کے مطابق انہیں پیر تک اسپتال سے چھٹی دی جاسکتی ہے۔

دوسری طرف والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر میں امریکی صدر کا علاج جاری ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ اور خاتون اول بہادری سے کورونا کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیک خواہشات کےپیغامات بھجوانے پر امریکی شہریوں اور عالمی رہنماوں کا شکریہ ادا کیا۔

ایک اورٹویٹ میں صدرٹرمپ نےکہاکہ وہ اسپتال کےباہران کی حمایت میں جمع ہونےوالےشہریوں کےمشکور ہیں۔اس سےپہلےامریکی صدرکےمعالج نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ میں کورونا کی تصدیق کے بعد سے صحت میں بہتری آرہی ہے۔ وائٹ ہاوس کی جانب سے امریکی صدر کی تصاویر بھی جاری کی گئیں، جن میں وہ اسپتال میں صدارتی ذمے داریاں ادا کرتے نظر آئے۔

واضح رہے کہ دوروز قبل امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اپنے اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی تھی۔ وائرس کی تشخیص کے بعد صدر ٹرمپ کو معائنے اور علاج معالجے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو