متحدہ اپوزيشن نے مولانا کو سربراہ چُن لیا، پیپلز پارٹی کی دبے الفاظ میں مخالفت

حکومت گرانے کیلئے متحد ہونے والی اپوزيشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہ چُن لیا۔

مولانا فضل الرحمان کو سربراہ بنانے کا فیصلہ پی ڈی ایم رہنماؤں کے ورچوئل اجلاس میں ہوا جس میں نواز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور دیگر اپوزيشن رہنماؤں نے شرکت کی۔

پی ڈی ایم کے دیگر عہدے داروں کا فیصلہ پیر کو اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا کا نام نواز شریف نے تجویز کیا، پیپلز پارٹی نے دبے الفاظ میں مخالفت کی، بلاول نے کہا مولانا کی سربراہی کی مدت بھی طے کی جائے اور اتحاد کی سربراہی باری باری تمام جماعتوں کو دینی چاہیے ۔

پی ڈی ایم کے سربراہوں نے میثاق پاکستان معاہدہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا، اس معاہدے کی تجویز مولانا فضل الرحمان نے پیش کی۔

ملکی حزب اختلاف کی 11 جماعتوں پر مشتمل ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ نے جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان کو سربراہ مقرر کردیا۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا ورچوئل اجلاس ہوا جس میں نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، احسن اقبال، نواب اختر مینگل، شاہ اویس نورانی، امیرحیدر خان ہوتی اور دیگر شریک ہوئے۔

اجلاس میں پی ڈی ایم کے تنظیمی ڈھانچے کو بھی حتمی شکل دی گئی جب کہ حکومت مخالف مشترکہ احتجاجی تحریک کی حکمت عملی اور عمل درآمد پر بھی مشاورت کی گئی۔

پی ڈی ایم کا ورچوئل اجلاس

ذرائع کے مطابق میثاق پاکستان معاہدے کے لیے پیر کو اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں نئی کمیٹی قائم کی جائے گی جو معاہدے کی تیاری پر کام کرے گی۔

اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے سربراہ احسن اقبال نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمن کو اتفاق رائے سے پی ڈی ایم کا پہلا صدر منتخب کیا گیا، نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کا نام تجویز کیا اور بلاول بھٹو نے اس کی تائید کی۔

انہوں نے کہا کہ روٹیشن کی بنیاد پرپی ڈی ایم کے صدر کے عہدہ کی مدت کا تعین کیا جائے گا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دیگر مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کا چناؤ پی ڈی ایم اسٹیرنگ کمیٹی کرے گی اور اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس 5 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کی کی رہبر کمیٹی نے مولانا فضل الرحمان کو ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ (پی ڈی ایم) کا سربراہ بنانے کی سفارش کی تھی۔

دوسری جانب پی ڈی ایم حکومت مخالف تحریک کا آغاز 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسہ عام سے کرے گی۔

واضح رہے کہ حزب اختلاف کی 11 جماعتوں نے حکومت کے خلاف ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ کے نام سے اتحاد تشکیل دیا ہے۔

اس اتحاد میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتیں شامل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو