خودکار گاڑی میں سونے اور اوور اسپیڈ پر ٹیسلا کے ڈرائیور پر جرمانہ

ڈرائیونگ کے دوران سونے اور تیز رفتاری سے خودکار-ٹیسلا کار چلانے والے ڈرائیور پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

کینیڈین شہری کو مبینہ طور پر خود کار-ٹیسلا کار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلاتے دوران سونے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب البرٹا میں انہیں اس حوالے سے آگاہ کیا گیا اور اہلکار موقع پر پہنچے اگلی سیٹ مکمل طور پر پیچھے کی طرف جھکی ہوئی تھی اور ڈرائیور اور مسافر دونوں سو رہے تھے۔

جب پولیس نے چیکنگ کے لیے ایمرجنسی لائٹس لگائیں تو ٹیسلا ایس ماڈل کی کار نے اسپیڈ پکڑ لی۔

رپورٹس کے مطابق برٹس کولمبیا سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ ڈرائیور کو دسمبر میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ٹیسلا ڈرائیور کو ابتدائی طور پر تیز رفتاری پر جرمانہ عائد کیا گیا اور 24 گھنٹوں کے لیے اس کا لائسنس معطل کر دیا گیا تاہم بعدازاں ڈرائیور پر خطرناک انداز میں ڈرائیونگ کرنے کی فردجرم بھی عائد کر دی گئی۔

پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ کار میں موجود افراد میں سے کوئی بھی شیشے کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا کہ کار کس طرف جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ کار میں کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اس کے باوجود کار تیزی سے آگے بڑھ گئی۔

پولیس سارجنٹ ڈیری ٹرن بل کا کہنا ہے میں گزشتہ 23 سال سے پولیس کی نوکری کر رہا ہوں اور میری نوکری کا زیادہ تر حصہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرانے میں گزرا لیکن میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کا واقعہ اس سے پہلے نہیں دیکھا، بلا شبہ پہلے اس طرح کی ٹیکنالوجی بھی نہیں تھی۔

ٹیسلا کمپنی کی جانب سے فی الحال لیول ٹی کی آٹو پائلٹ کار چلائی جا رہی ہے جس میں ڈرائیور کو ہر وقت الرٹ رہنا پڑتا ہے۔

ٹیسلا کے مالک ایلن مسک کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کی گاڑیاں رواں برس کے اختتام پر مکمل طور پر خودکار ہو جائیں گی اور گاڑیوں میں ڈرائیور کی معمولی سی ان پٹ درکار ہو گی۔ اس دوران بہت سے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑے گا جنہیں ٹیسٹنگ کے دوران دور کرنے کی ضرورت ہو گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو