حشرات الارض کے خاتمے اور موبائل فون میں تعلق

موبائل فونز سے خارج ہونے والی تابکاری ممکنہ طور پر حشرات الارض (کیڑوں مکوڑوں) کے خاتمے کا باعث بن رہی ہے۔

جرمنی میں کی گئی ایک تحقیق میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران کیڑوں کی تعداد میں اچانک اور غیریقینی کمی کی وجہ موبائل فونز سے خارج ہونے والی تابکاری ہوسکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں قدرتی مسکن تباہ ہونے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ برقی مقناطیسی تابکاری کیڑوں کی دنیا پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔

تحقیق کے دوران اس حوالے سے کی گئی متعدد سائنسی تحقیقات کے تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان تحقیقات میں بھی تابکاری کو شہد کی مکھیوں، بِھڑوں اور دیگر مکھیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق تابکاری کے منفی اثرات کے باعث ان جانداروں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے (نیوی گیشن) کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور ان کے جینیاتی مادوں کے ساتھ لارووں کی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

تحقیق کے مطابق موبائل فون اور وائی فائی سے خارج ہونے والی تابکاری سے کیڑوں کے خلیات زیادہ کیلشیم آئن جذب کرنا شروع ہوجاتے ہیں جس سے ان میں بائیو کیمیکل ری ایکشن شروع ہوجاتا ہے جس کے باعث ان کا مدافعتی نظام اور سرکیڈین (جسم کے جاگنے، سونے کا اندرونی نظام) سسٹم متاثر ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حشرات کی اچانک کمی پر تحقیق کے دوران ہمیں ہر حوالے سے آنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں۔

ماہرین کے مطابق یہ موضوع بہت سے افراد کے لیے ناپسندیدہ ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ہماری روزہ مرہ کی زندگی میں مداخلت کرتا ہے اور موبائل ٹیکنالوجی سے بڑے معاشی مفادات بھی وابستہ ہیں۔

جرمنی میں صارفین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے رہنما پیٹر ہینسنجر کا کہنا ہے کہ تابکاری کے انسانوں اور جانوروں پر ممکنہ مضر اثرات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، خاص طور پر 5 جی ٹیکنالوجی کو ضرور مد نظر رکھنا چاہیے۔

کہا جارہا کہ 5 جی کے ذریعے 4 جی کے مقابلے میں زیادہ رفتار حاصل ہوگی تاہم اس کے انسانوں اور جانداروں پر ہونے والے ممکنہ منفی اثرات کے خدشات کے باعث اس کی مخالفت بھی کی جارہی ہے۔

ماحول دوست تنظیموں کا کہنا ہے کہ 5 جی ٹیکنالوجی لانا انسانوں اور ماحولیات پر تجربہ کرنے مترادف ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو