10 سال سے ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی تعینات نہ ہونے کا انکشاف

سندھ ہائی کورٹ نے آٹا، چینی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کے بحران کے خلاف سیکریٹری زراعت اور بیورو اینڈ سپلائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو اشیائے ضروریہ کے بحران کے خلاف ،گراں فروشی،ذخیرہ اندوزی کے قوانین پر عملدرآمد اور اسپیشل ججز کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی کی عدم تعیناتی پر عدالت سندھ حکومت پر برہم ہوگئی.

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے 2010ء سے ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی تعینات نہیں کیا گیا، کیا سندھ میں کوئی قابل افسر نہیں ہے جسے ڈی جی بیورو اینڈ سپلائی تعینات کیا جائے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ شہریار مہر نے موقف اختیار کیا کہ سندھ حکومت نے ایڈیشنل ڈی جی تعینات کردیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے قانون میں جب لکھ دیا گیا ہے تو اب تک مستقل ڈی جی تعینات کیوں نہیں کیا گیا جب ادارہ بنا دیا گیا ہے تو اس کا سربراہ بھی تو لگاؤ، سربراہ کے بغیر ادارہ کام کیسے کرے گا، طارق منصور ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ اب تک سندھ میں کوئی ایک بھی گودام رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔

سندھ میں گندم چوری ہوجاتی ہے تو نیب برآمد کرتا ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے جب ادارے کا سربراہ ہی نہیں لگایا گیا تو پھر یہی ہوگا، ڈی جی تعینات کردیا جاتا تو وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتا، سندھ حکومت کو گریڈ 20، 21 کا کوئی قابل افسر نہیں مل رہا؟

دائر درخواست میں طارق منصور ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ بیورو اینڈ سپلائی کے 1163 ملازمین ہیں ادارے کا 62 کروڑ روپے بجٹ رکھا جاتا ہے، عدالت نے سیکرٹری زراعت اور بیورو اینڈ سپلائی کو ذاتی حیثیت سے طلب کرلیا، عدالت نے ریمارکس دیے سیکرٹری زراعت 13 اکتوبر کو خود پیش ہوکر وضاحت کریں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو