اردن کے فوجی اسلحہ ڈپو میں خوفناک دھماکے سے شہر لرز اُٹھا

اردن کے دارالحکومت سے کچھ فاصلے پر موجود فوجی تنصیبات اور عمارتوں میں سے سلسلہ وار خوفناک دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اردن کے دارالحکومت عمان کے نزدیکی شہر زرقا میں وقفے وقفے سے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں۔ یہ دھماکے فوجی اسلحہ ڈپو میں ہوئے جہاں مارٹر گولوں سمیت بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد اور فوجی ساز و سامان موجود تھا۔

دھماکے اتنے شدید نوعیت کے تھے اس کی گونج 25 کلومیٹر دور عمان تک نہ صرف سنی گئی بلکہ دھماکوں کے نتیجے میں بلند شعلوں کو بھی دیکھا گیا۔ دھماکوں میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے اور ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکے اسلحہ ڈپو میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوئے۔

ریسکیو اداروں کی ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو آسمان کو چھوتے شعلوں کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ سے بات کرتے ہوئے ایک آفیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلحہ خانے میں اینٹی کرافٹ میزائل بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ جس مقام پر دھماکے ہوئے ہیں وہاں 2018ء سے متعدد امریکی اسلحہ ڈپو قائم ہیں اور امریکی فضائیہ کے زیر استعمال ہیلی پیڈ بھی اسی جگہ پر موجود ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ماہ قبل بیروت بندرگاہ پر رکھے کیمیکل کے ذخیرے میں خوفناک دھماکے میں آدھا شہر تباہ اور 200 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، تاحال ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے جس کے دوران ایک مرتبہ پھر خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔

رواں ہفتے میں یہ دوسری بار اچانک بھڑکی ہے تاہم اس بار شدت کئی گنا زیادہ ہے، آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے اور پورا علاقہ دھوئیں کے کالے بادلوں میں چھپ گیا۔ امدادی کام کے لیے فوج کو طلب کرلیا گیا۔

فائر بریگیڈ کی درجن گاڑیاں آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، کسی کو بھی بندرگاہ کے متاثرہ حصے میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ تاحال کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آگ بندرگاہ کے ویئر ہاؤس میں لگی جہاں بڑی مقدار میں آئل اور ٹائرز کا ذخیرہ موجود ہے، کم سے کم نقصان کے لیے امدادی کاموں کو دن رات شفٹوں میں جاری رکھا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو