رکن ممالک مذہبی ذبیحہ پر پابندی عائد نہیں کرسکتے، ایڈووکیٹ جنرل یورپی عدالت انصاف

یورپین کورٹ آف جسٹس کے ایڈووکیٹ جنرل نے کہا ہے کہ کسی بھی یورپین ممبر ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانونی طورپر مذہبی ذبیحہ پر پابندی عائد کرے۔

ایڈووکیٹ جنرل اے جیرارڈ ہوگن نے اپنی یہ رائے بیلجیئم کے فلامش ریجن کی جانب سے 20 جولائی 2017ء کو بے ہوش کئے بغیر جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کئے جانے پر دی۔ جس کے تحت مسلمان اور یہودی اپنے مذہبی طریقے پر ہونے والے ذبیحہ سے محروم کر دیئے گئے تھے۔

لگزمبرگ میں قائم یورپین کورٹ آف جسٹس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کے خلاف بہت سی مسلمان اور یہودی تنظیموں نے کورٹ سے رجوع کرکے یہ شکایت کی تھی کہ یہ پابندی ان کے مذہبی فرائض و عقائد سے روکے جانے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ مسلمان اور یہودی تنظیموں نے اس فیصلے کو پہلے بیلجیئم کی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ لیکن عدالت نے اس فیصلے پر خود رائے دینے کی بجائے اسے یورپین عدالت انصاف کو بھجوا دیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل جیرارڈ ہوگن نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ جانوروں کی فلاح سے متعلق یورپین آئین کا آرٹیکل 4/1 یہ کہتا ہے کہ جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل انہیں بے ہوش کیا جائے۔ لیکن اسی کے ساتھ ہی آرٹیکل 4/4 مذہبی بنیادوں پر ذبیحہ کی اجازت بھی دیتا ہے۔

اس تناظر میں یورپ کی کسی بھی ممبر ریاست کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ لوگوں کے مذہبی فرائض کا احترام نہ کرے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو