سی سی پی او لاہور نے موٹروے واقعے پر اپنے بیان پر معذرت کرلی

کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ نے موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے معاملے پر اپنے بیان پر معذرت کرلی۔

عوام کا تحفظ تمام سرکاری اداروں بشمول پولیس کی ذمہ داری ہے، خاتون سے زیادتی کے سنگین جرم میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، پولیس موٹروے واقعے کی گتھی سلجھانے کے لیے مستقل کام کررہی ہے۔

اس سے قبل لاہور میں سی سی پی او عمر شیخ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ یہ اندوہناک واقعہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، پولیس اور حکومت کا کام شاہراؤں کو محفوظ بنانا ہے۔

مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، ملزمان کو نشان عبرت بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، لاہور میں نئی کمانڈ آئی ہے، جس سے کوشش ہوگی کہ شہر میں بہتری آئے۔

اس موقع پر سی سی پی او عمر شیخ کا کہنا تھا کہ جس سے زیادتی ہوئی وہ ہماری اپنی بچی ہے، اس کیس کو مثالی بنائیں گے اور ہماری جو ذمہ داری ہے ہم اس کو پورا کریں گے۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ اس وقت 4 انویسٹی گیشنز لائنز ہیں، ہم نے تجربہ کار کھوجیوں کو بھی گجرانوالہ سے بلایا ہے، جیو فنسنگ بھی ہوچکی ہے اور سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مدد لی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے موٹر وے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

واقعے سے متعلق سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ اکیلی خاتون کو آدھی رات میں موٹروے سے جانے کی ضرورت کیا تھی، وہ جی ٹی روڈ سے کیوں نہ گئيں جہاں آبادی تھی؟… ان کے اس بیان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو