یہ دیوقامت ڈیجیٹل کیمرا 3,200 میگا پکسل کی تصاویر کھینچ سکتا ہے

امریکی ادارے ’’اسٹینفرڈ لینئر ایکسلریٹر کمپلیکس‘‘ (سلیک) میں ماہرین نے ایک بہت بڑا ڈیجیٹل کیمرا تیار کرلیا ہے جو 3,200 میگا پکسل (تین ہزار دو سو میگا پکسل) کی تصاویر کھینچ سکتا ہے۔

البتہ اسے عام استعمال نہیں کیا جائے گا ’’لیگیسی سروے آف اسپیس اینڈ ٹائم‘‘ (ایل ایس ایس ٹی) نامی منصوبے کے تحت ایک فلکیاتی رصدگاہ میں نصب کیا جائے گا۔ اس رصدگاہ کا نام ’’ویرا رُوبن آبزرویٹری‘‘ رکھا گیا ہے اور اس کی تعمیر آج کل چلی میں جاری ہے۔

بات صرف بڑی تصویر کی نہیں بلکہ یہ کیمرا اتنی مدھم چیزوں تک کو دیکھ سکتا ہے جو انسانی آنکھ کی قوتِ بصارت کے مقابلے میں بھی دس کروڑ گنا مدھم ہوں۔ یعنی اس کیمرے کی مدد سے کائنات کی ایسی تفصیلی تصویریں کھینچی جاسکیں گی جو اس سے پہلے کسی فلکیاتی دوربین کے ذریعے ممکن نہیں تھیں۔

اس کیمرے میں عکس بندی (امیجنگ) کرنے والا حصہ 61 سینٹی میٹر لمبا اور 61 سینٹی میٹر چوڑا ہے۔ مجموعی طور پر یہ 189 انفرادی امیجنگ سینسرز کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جن میں سے ہر ایک 16 میگا پکسل جتنی تصویر لے سکتا ہے۔

اس کیمرے پر گزشتہ پانچ سال سے کام ہورہا تھا جو کچھ ہی دن پہلے مکمل ہوا ہے۔ فی الحال اس سے کچھ تجرباتی تصویریں کھینچی گئی ہیں تاکہ اس کی کارکردگی جانچی جاسکے۔ اس کے بارے میں یوٹیوب پر بھی ایک مختصر ویڈیو بھی رکھ دی گئی ہے.

عام ڈیجیٹل کیمروں کے برعکس، اسے انتہائی سرد ماحول درکار ہوتا ہے اور یہ منفی 150 ڈگری فیرن ہائیٹ پر کام کرتا ہے۔ تاہم یہ اتنا طاقتور ہے کہ بہت دور اور انتہائی مدھم چیزوں کو بھی بہت صاف طور پر دیکھ سکتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے انسانی آنکھ ہزاروں میل دوری سے ایک موم بتی کو جلتا ہوا دیکھ لے۔ مزید آسانی کےلیے یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کیمرہ 24 کلومیٹر دور موجود ایک گالف بال تک کو بہ آسانی دیکھ سکتا ہے۔

فی الحال اس کی مزید سخت آزمائشیں جاری ہیں جو 2021ء کے وسط تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ اس کے بعد یہ کیمرا اپنی متعلقہ رصدگاہ میں پہنچا دیا جائے گا اور کائنات کے اسرار کھنگالنے میں ہماری مدد کرنے لگے گا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو