آبادی کا دھماکا

اگر سرکار کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں، تو پھر سب سے پہلے آپ کو ہر قیمت پر، ہر صورت میں تباہ کن تیزی سے بڑھتی ہوئی کراچی کی آبادی کو روکنا ہو گا۔ اس کے بغیر آپ کراچی کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔

نئے روڈ راستے بنوانے اور ٹوٹے پھوٹے راستوں کی مرمت کرانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ آپ ایک ہزار فلائی اوور بنوا لیں، کچھ نہیں ہو گا۔ آپ ایک لاکھ کالی پیلی نیلی بسیں چلائیں اس سے بھی کچھ نہیں ہو گا، انگریز کے دور کے نالے صاف کروانے اور نالوں کا جال بچھانے سے کراچی کا کوئی مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل نہیں ہو گا۔ ڈھائی لاکھ آبادی والا شہر ڈھائی کروڑ کی آبادی کا شہر بن چکا ہے۔ جس دھماکہ خیز تیزی سے کراچی کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کراچی کی آبادی تین کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔ آپ جب تک کراچی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو جنگی اور ہنگامی بنیادوں پر نہیں روکیں گے، کراچی آپ سرکار کے کنٹرول میں نہیں آئے گا۔

ہمارے ہاں اعداد و شمار بتانے والوں کا حال خستہ ہے۔ آپ اعداد و شمار کے بارے میں یقین سے کسی کو کچھ نہیں بتا سکتے۔ اعداد و شمار کا انحصار اندازوں پرہونے لگا ہے۔ کوئی ادارہ وثوق سے بتا نہیں سکتا کہ قدرتی طور پر کراچی کی آبادی میں کس حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی کراچی میں روزانہ کتنے بچے پیدا ہوتےہیں۔

کراچی اس قدر پھیل چکا ہے کہ کوئی یقین سے بتا نہیں سکتا کہ کتنی شرح فی صد سے قدرتی طور پر کراچی کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر طرح طرح کے طریقوں سے کراچی کی بڑھنے والی آبادی کے بارے میں کئی لوگ آپ کو اعداد و شمار بتانے بیٹھ جائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق مختلف ذرائع سے کراچی میں آنےوالوں کی روزانہ تعداد ڈیڑھ سے دو ہزار ہے۔ مطلب یہ کہ مختلف طریقوں سے کراچی کی آبادی میں روزانہ ڈیڑھ سے دو ہزار نفوس کا اضافہ ہو رہا ہے۔آبادی میں بے ہنگم ، بے قابو اضافے کی تصدیق شدہ مثال میں آپ کے آگے رکھنا چاہتا ہوں۔

انگریزوں نے کراچی کو چار ٹاؤنز میں تقسیم کیا تھا۔ وہ ٹاؤن اب تک ہیں۔ ایک ٹاؤن کا نام ہے فریئر ٹاؤن اس ٹاؤن میں فریئر ہال اور کنٹونمنٹ اور کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن شامل ہیں۔ فریئر ٹاؤن میں زیادہ تر انگریزوں کی کوٹھیاں ہوتی تھیں۔ فریئر ٹاؤن کی ایک اسٹریٹ کا نام ہے للی Lilly اسٹریٹ۔ للی اسٹریٹ میں انگریزوں کی چھ کوٹھیاں تھیں۔ اب ایک ایک کوٹھی کی جگہ ستر اسی فلیٹوں والی چھ فلک بوس عمارتیں کھڑی ہیں۔ جس گلی میں چھ فیملیز رہتی تھیں۔ اس گلی میں اب چھ سو فیملیز رہتی ہیں۔ گلی کی سڑک وہی ہے جو کہ چھ فیملیز کیلئے مناسب تھی۔ چھ گھروں کا ڈرینیج سسٹم اب چھ سو گھر استعمال کررہے ہیں چھ گھروں کیلئے نہانے دھونے اور پکانے کا پانی اب چھ سو فلیٹس میں رہنےوالی فیملیز استعمال کر رہی ہیں۔ چھ کوٹھیوں والی للی اسٹریٹ میں چھ سو فیملیز کیلئے نیا ڈرینج سسٹم نہیں لگ سکتا۔ آئے دن گلی گندے اور غلیظ پانی میں ڈوبی رہتی ہے۔ کوڑے کرکٹ اور گندگی کے ڈھیر لگے رہتے ہیں۔

کراچی کے اسکول اور کالجوں کے اپنے پلے گراؤنڈ یعنی کھیل کے میدان ہوتے تھے۔ جب آبادی بے قابو ہو جاتی ہے، تب شہر کے چپے چپے پر چھوٹے بڑے، ٹیڑھے میڑے گھر بننا شروع ہو جاتے ہیں کراچی کے اسکول اورکالجوں کے تمام کھیل کے میدانوں پر قبضہ ہو چکا ہے۔ ہندو جیم خانہ کے عالیشان کرکٹ گراؤنڈ پر کراچی پولیس کے بدنما فلیٹ بنے ہوئے ہیں۔ ایک طرف ڈی آئی جی کا دفتر اور دوسری طرف خواتین پولیس اسٹیشن کا دفتر ہندو جیم خانہ کے کرکٹ گراؤنڈ پر بنے ہوئے ہیں۔ اور یہ قبضہ عین گورنر ہاؤس کے سامنے ہے۔

گورنر اگر چاہے تو گورنر ہاؤس کی چھت پر چڑھ کر پولیس کے ہاتھوں متروکہ جائیداد پر قبضے کا منظر دیکھ سکتے ہیں۔ سرکار نے اگر اب بھی ریکارڈ توڑ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا سد باب نہیں کیا، تو پھر آپ قدرت کی کارروائی کو روک نہیں سکتے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا۔ یہ تھیوری مالتھس کی ہے۔ آپ کو یہ سن کر تشویش بلکہ ڈر نہیں لگتا کہ جس جگہ ایک فیملی آباد تھی، عین اسی جگہ دس پندرہ منازل والی عمارتیں کھڑی کر دی گئی ہیں اور ایک ایک عمارت میں ایک سو فلیٹ ہوتے ہیں۔ جب تک آپ حیرت زدہ نہیں ہونگے۔

آپ کراچی کے مسائل کا حل تلاش نہیں کر سکیں گے۔ کراچی کی آبادی کچھ اس طرح کی ہیجانی کیفیت میں بڑھ رہی کہ جہاں ایک گھر تھا، وہاں ایک سو گھر بن چکے ہیں۔ جہاں ایک ہزار گھر تھے وہاں سو ہزار مکان بن چکے ہیں۔ جہاں ایک لاکھ گھر تھے، یعنی فیملیز تھیں وہاں ایک سو لاکھ یعنی ایک کروڑ فیملیز رہائش پذیر ہیں۔ فقیر کی بات سمجھ رہے ہیں نا سرکار آپ؟

کراچی کا کینسر دھماکہ خیز آبادی Population Explosion ہے۔ اسے مزید بڑھنے سے روکیے۔ پاکستان کے قوانین میں ایسا کوئی قانون تو ہو گا جس کے اطلاق سے آپ ایک شہر کو آبادی کے بوجھ تلے دھنس جانےکے المیہ سے بچا سکیں؟… جیسے لاہور میں گرین ایریا، رہائشی علاقہ، انڈسٹریل ایریا واضح کر دیا گیا تھا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو