پاکستان اسٹیل ملز کو فروخت کرنے کے بجائے لیز پر دینے کا فیصلہ

وفاقی وزیر نجکاری محمد میاں سومرو کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل مل فروخت نہیں کی جائے گی بلکہ اسٹیل مل کو کم از کم 30 سال کی لیز پر دینے کا منصوبہ ہے جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو کی زیر صدارت نجکاری کمیشن بورڈ کااجلاس ہوا جس میں پاکستان اسٹیل ملز کے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دی گئی علاوہ ازیں بورڈ ممبران نے مختلف عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ میں حکومت پاکستان کے 10 فیصد حصص کی فروخت سے متعلق مالیاتی مشیران کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں او جی ڈی سی ایل میں حکومت پاکستان کے 7 فیصد تک حصص کی فروخت کے لیئے مشیران کا کنسورشیم پی پی ایل کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔

نجکاری کمیشن بورڈ میں روزویلٹ ہوٹل کے لیئے مالیاتی مشیروں کی تقرری پر اپ ڈیٹ سے بھی آگاہ کیا گیا. وفاقی وزیر کی تمام متعلقہ عہدیداران کو کام کی بروقت تکمیل کی تاکید کی ہے۔

اجلاس میں سندھ انجنیئرنگ کمپنی لمیٹڈ اور گدو پاور پلانٹ ( کے متعلق ) مالیاتی مشیران کی تقرری ازسرنو کرنے پر اتفاق ہوا ہے نجکاری بورڈ نے واپڈا ہاﺅس سوات کی نیلامی سے متعلق معاملات کابینہ کمیٹی برائے نجکاری بورڈ کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جبکہ نجکاری کمیشن حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے وزارت اطلاعات، سول ایوی ایشن، ایف بی آر، کوسٹل سروسز کی املاک مختص کی گئی ہیں ان پراپرٹیز کی مجموعی قیمت چھ ارب روپے سے زائد ہے۔

نجکاری کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ وزارت اطلاعات کی ملتان روڈ لاہور پر 8 سو اکتالیس کینال نیا پاکستان ہاؤسنگ کیلئے دے دی گئی ہے جبکہ کراچی کے علاقے پپری میں وزارت اطلاعات کی 9 سو اٹھائیس کینال نیا پاکستان ہاؤسنگ کے حوالے کی گئی ہے۔

نجکاری کمیشن حکام کا مزید کہنا ہے کہ کراچی سے ایف بی آر کے پچاس ایکڑ بھی نیا پاکستان ہاؤسنگ ک دی گئی ہے اور لاہور گلبرگ میں 4.3 کینال اسی اسکیم میں شامل کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جھنگی سیداں میں کوسٹل سروسز کی 18 کینال بھی نیا پاکستان ہاؤسنگ کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو