چیف جسٹس پر تنقید کرنے والے وکیل کو ایک روپیہ جرمانے کی سزا

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے چیف جسٹس پر تنقیدی ٹوئٹ کرنے والے وکیل پرشانت بھوشن کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک روپے کا جرمانہ کیا ہے۔

بھارت میں آزادیٔ اظہار سے متعلق توجہ کا محور بننے والے بھارتی وکیل پرشانت بھوشن پرتوہین عدالت کے الزام میں جاری مقدمے کے پیر کو آنے والے فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ 15 ستمبر تک اگر بھوشن یہ جرمانہ ادا نہیں کر پائے تو انہیں چھ ماہ تک جیل میں رکھا جائے۔

واضح رہے کہ 63 سالہ ممتاز بھارتی وکیل پرشانت بھوشن نے 29 جون کو ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں بھارتی چیف جسٹس کو بیش قیمت ہارلے ڈیوڈسن موٹر سائیکل پر سوار دکھایا گیا تھا۔

بھوشن نے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ یہ موٹر سائیکل حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ناگ پور کے ایک لیڈر کی ہے جس پر چیف جسٹس بغیر ماسک اور ہیلمٹ کے سوار ہیں جب کہ سپریم کورٹ میں لاک ڈاؤن ہے اور شہری انصاف تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے ’’عوام کا اعتماد ڈگمگانے‘‘ کا الزام عائد کرکے اس ٹوئٹ کی بنا پر پرشانت بھوشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

عدالتی سماعت کے دوران پراشانت بھوشن نے 20 اگست کو عدالت میں واضح کردیا تھا کہ وہ عدالت سے رحم کے طلب گار نہیں ہے۔ دوسری طرف بھارتی حکومت کی جانب سے رجوع کرنے پر ٹوئٹر نے پرشانت کے ٹوئٹ حذف کردیے تھے۔

پرشانت بھوشن 2014ء میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارتی جمہوریت کی کمزوری میں مودی اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ پر بھی کڑی تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کو توہین عدالت کی سزا ہونے پر متعدد ریٹائرڈ جج صاحبان وکلا اور صحافیوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو