فوج الیکشن میں کردار ادا کرے گی نہ نتائج کے تنازع میں پڑے گی

امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے واضح کیا ہے کہ فوج نہ تو صدارتی انتخاب میں کردار ادا کرے گی اور نہ ہی انتخابی نتائج کے تنازع میں پڑے گی۔

امریکی ارکان کانگریس کے سامنے پیش ہو کر امریکی فوج کے سب سے اعلیٰ عہدیدار جنرل مارک ملی نے کہا کہ امریکی فوج کا صدارتی انتخاب میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

مارک ملی کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی نتائج میں کوئی تنازع پیدا ہوا تو اس کے حل میں بھی مدد نہیں کی جائے گی کیونکہ قانون کے تحت عدالتیں اور کانگریس ایسے مسئلوں کا حل نکالتی ہیں، فوج نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں دل کی گہرائی سے فوج کے غیر سیاسی ہونے کے اصول پر یقین رکھتا ہوں۔

خیال رہے کہ 3 نومبر 2020ء کو امریکا میں صدارتی انتخاب ہونا ہیں. تاہم کورونا وائرس کے باعث پوسٹل بیلٹنگ کی تجویز بھی زیر غور ہے تاہم ٹرمپ اس کو مسترد کرچکے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پوسٹل بیلٹنگ میں ووٹوں کی گنتی میں کئی ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں اور وہ اسے فراڈ بھی قرار دے چکے ہیں جب کہ دوسری جانب ان کے حریف امیدوار جوبائیڈن بھی ٹرمپ کی جانب سے الیکشن کے نتائج میں مبینہ ردو بدل کے خدشے کا اظہار کرچکے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکا کے گذشتہ انتخاب 2016ء میں بھی ٹرمپ کی کامیابی پر روس کے اثر انداز ہونے کے حوالے سے بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو