حکومت نے گیس کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا، صارفین فوری ریلیف سے محروم

حکومت نے گیس سستی کرنے کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے فی الحال قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے صارفین فوری ریلیف سے محروم ہو گئے ہیں۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اس سے قبل گیس کی قیمتوں میں 6 فیصد تک کمی کا فیصلہ کیا تھا جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہونا تھا۔ وفاقی حکومت اوگرا کے فیصلے کی روشنی میں 45دنوں کے اندرگیس قیمتوں کے نوٹیفکیشن کیلئے ایڈوائس بھیجنے کی پابند ہے۔

اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن نے 21 اگست کو سفارش کہ گیس کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ یہ معاملہ اب اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے آئندہ اجلاس میں زیرغور آئے گا۔

حکام کے مطابق طے شدہ طریقہ کار کے مطابق وفاقی حکومت نے گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق اس سال یکم جولائی سے کرنا تھا تاہم اس میں دو ماہ کی تاخیر ہو چکی ہے، پٹرولیم ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو قیمتیں برقرار رکھنے کی سفارش کی ہے۔ اگر اب گیس قیمتوں پر کوئی نظرثانی ہوئی بھی تو اس کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا۔

حکام کے مطابق حکومت کو گیس کے شعبے میں 200 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے اس لئے اس کے پاس قیمتوں میں کمی کا کوئی آپشن نہیں ہے۔ گیس کمپنیوں نے درآمدی گیس کے ضمن میں بھی صارفین سے ابھی 73 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی صارفین سے اس وصولی کی باضابطہ منظوری دی چکی ہے تاہم وفاقی کابینہ نے سیاسی مضمرات کی وجہ سے یہ فیصلہ روک لیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو