مجرم کے ٹرائل کے موقع پر رقت آمیز مناظر، شہدا کے لواحقین آبدیدہ

گزشتہ برس نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں دہشت گردانہ حملے کے مجرم کا ٹرائل جاری ہے۔

گزشتہ تین روز سے جاری سماعت میں حملے کے متاثرین اور شہید و زخمی ہونے والوں کے لواحقین بھی شریک رہے، کورونا کے باعث مرکزی کمرہ عدالت کے علاوہ دیگر کمروں میں بھی ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی دیکھی گئی۔

ٹرائل کے دوران لواحقین اور حملے کے متاثرین اپنے بیانات قلمبند کرارہے ہیں اور اس دوران متعدد بار رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔

کرائسٹ چرچ حملے میں شہید ہونے والے جبران شفیع کے بیٹے دہشت گرد پر برس پڑے اور کہا کہ نہیں پتہ کہ یہاں کا نظام انصاف تمھیں کیا سزا دے گا لیکن یقین ہے کہ اللہ تعالی پورا انصاف کرے گا۔

عدالت میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے حملے میں شہید ہونے والے 60 سالہ عبدالفتح قاسم کی 24 سالہ بیٹی سارہ قاسم بھی والد کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔

واقعے میں شہید ہونے والے 71 سالہ حاجی محمد داؤد نبی کے بیٹے احد نبی نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے مجرم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تمہارے والد کوڑا کرکٹ اٹھاتے تھے اور تم معاشرے کی گندگی بن گئے ہو‘۔

اس کے علاوہ دیگر شہداء اور حملہ متاثرین نے بیانات ریکارڈ کرائے اور مجرم کو سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا۔ دہشتگرد کو سزا جمعرات کے روز سنائی جائے گی اور ممکنہ طور پر اسے عمر قید سنائی جائے گی۔

واضح رہے کہ 15 مارچ 2019ء کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر نماز جمعہ کے دوران حملے کیے گئے جس میں ملزم آسٹریلوی شہری نے دو مسجدوں میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 51 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

اس دوران دہشت گرد اس حملے کی ویڈیو اپنے ہیلمٹ پر لگے کیمرے سے سوشل میڈیا پر لائیو ٹیلی کاسٹ کرتا رہا۔

ان حملوں کے وقت بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم بھی کرائسٹ چرچ میں موجود تھی جو اس حملے میں محفوظ رہی. جبکہ 9 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو