تحریک انصاف کی حکومت کے اقتصادی ترقی کے دعوے سچ ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے دو سال ہو گئے ہیں لیکن آج بھی کپتان اور تحریک انصاف کی سیاست کا محور پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اس کے قائد نواز شریف ہی ہیں۔

اس دوسال کے عرصے میں تبدیلی سرکار کا کچھ نہیں بدل سکا ہے اور پچھلے دوسال سے تمام تر توانائیاں کچھ کرکے دکھانے میں صرف کرنے کی بجائے مخالفین کی سیاست کو ختم کرنے پر صرف کرتے نظر آرہے ہیں لیکن مخالفین ہیں کہ جتنا دباتے ہیں اتنا ابھر کر سامنے آتے ہیں اور اب تو یہ عالم ہے کہ وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج عوام کو صرف یہ بتانے کیلئے پھرتی دکھائی دے رہی ہے کہ نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی ہے لیکن نوازشریف ہے کہ اسکی ایک تصویر لندن سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی دیر ہوتی ہے حکومتی ایوانوں میں تھرتھلی مچ جاتی ہے اور کپتان اور ان کی پوری ٹیم کمربستہ ہو جاتے ہیں۔

شائد وہ اسی میں اپنی سیاسی بقاء سمجھتے ہیں اور تاریخ کے ہاتھوں دوسرا اصغر خان نہیں بننا چاہتے مگر اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ کلچھ ڈلیور بھی کر کے دکھائیں اور تاریخ رقم کریں، اب اس کیلئے بعض حلقے صدارتی نظام کو لازمی جزو قراردے رہے ہیں اور پیشنگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ کپتان بطور وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکیں گے اور ماضی کی حکومتوں کی طرح تبدیلی کی نذر ہو جائیں گے لیکن دنیا کپتان کو ایک نئے روپ میں دیکھے گی اور جو وہ بطور وزیراعظم اچھی ٹیم کا انتخاب نہ ہونے کے باعث نہ کر پائے صدارتی نظام کی چھتری تلے کپتان وہ سب کر دکھائیں گے جس کی عوام نے توقعات وابستہ کر رکھی تھیں لیکن یہ گا، گی، گے کی وہ گرائمر ہے جو پچھلے تہتر سال سے گردانی جا رہی ہے یہ تو مستقبل بتائے گا کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ کیا صدارتی نظام جگہ لینے کو ہے یا پھر تبدیلی سرکار تبدیلی کی نذر ہونے جا رہی ہے۔

حکومت کے خلاف اپوزیشن کی سرگرمیاں پھر سے تیز ہو رہی ہیں اور مسلم لیگ (ن)کے رہنما نوازشریف کی بھی وطن واپسی کی اطلاعات ہیں ساتھ ہی اپوزیشن بھی متحرک ہو گئی ہے حکومت کو گھر بھجوانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کی تیاریاں بھی اب حتمی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں اور سیاسی اکابرین کی ملاقاتوں میں تیزی آگئی ہے۔ منگل کو بھی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی قیادت میں خواجہ آصف، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد سمیت دیگر تمام متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا، ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات میں ہم نے اْن کی بات سنی اور انہوں نے ہماری بات سنی، ہم پارلیمان کے اندر اور باہر سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں گے،اے پی سی ہوگی اور ضرور ہوگی، تمام جماعتوں کی موجودگی میں فیصلے ہوں گے، ہم سب مل کر بیٹھ کر اے پی سی بلائیں گے۔

اے پی سی سے متعلق رہبر کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت کریں گے، قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہم نے عمران خان کو نااہلی اور نالائقی کی بنیاد پر مین آف دی ائیر قراردیا ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے رابطوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، ملاقات میں مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق ہوا ہے۔

حکومت کے خلاف تحریک پر اتفاق ہے مگر طریقہ کار پر بات کرنا ضروری ہے، موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم باہمی تحفظات کو دور کریں، اپوزیشن کی تقسیم ملک کے مفاد میں نہیں، اپوزیشن مشترکہ اور مستحکم حکمت عملی بنائے گی، ہم نے اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کا ایک اجلاس بلایا تھا جسے میر حاصل بزنجو کے انتقال کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے موخر کیا ہے۔ ہم باقی چھوٹی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ان سے بات کریں گے۔ حالات سے لگ یہی رہا ہے کہ حکومت کیلئے ایک نئی آزمائش شروع ہونے جا رہی ہے مگر اس میں کامیابی کیلئے اپوزیشن کو ذاتی اور پارٹی سے نکل کر عوامی بیانیہ اپنانا ہوگا صرف نعروں سے کام نہیں چلے گا۔

موجودہ حکومت بھی نعرے لگاتی رہی اور صرف گرفتاریوں پر زور رکھا جبکہ حالات کچھ یوں ہیں کہ اشیائے خورونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور سے دور ہوگئی ہیں۔ آٹا ،چینی، دالیں، روٹی اور پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھا د ی گئی ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ حکومت کی سالانہ رپورٹ برائے سال 21-2020ء کے مطابق ملک میں بیروز گارافراد کی تعداد 4 ملین سے بڑھ 6 ملین سے زائد ہو چکی ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے مجموعی طور پر دو سالوں کے دوران 26 ارب اور 20 کروڑ ڈالر مالیت کے بیرونی قرضے حاصل کیے ہیں جو ملکی تاریخ میں حاصل کردہ قرضوں کا دوسرا بڑا حجم ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ حکومت کے پاس بیرونی قرضے حاصل کرنے اور آئی ایم ایف کا سہارہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، کہتے ہیں کہ خالی برتن شور زیادہ کرتا پے آج حکومت کی حالت بھی کچھ ایسی ہے اور حکومت کی جانب سے دوسالہ کارکردگی سے متعلق شور شرابا ہے۔

وزیروں کی فوج ظفر موج کی یکے بعد دیگرے پریس کانفرنسز کی سیریز ہے جو ختم ہونے کا نام لے رہی ہے اور ایک دن میں نصف درجن کے لگ بھر حکومتی وزیر و مشیر پریس کانفرنسیں کرکے یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی ہے جبکہ کپتان کی ٹیم کے اہم رکن شہزاد اکبر اسی کوشش میں خود کو مصیبت میں ڈال بیٹھے اور پریس کانفرنس میں محکمہ زراعت کا نام لے کر رات سکون سے نہیں کاٹ سکے اور رات گئے انہیں ٹوئیٹر پر وضاحت کرنا پڑی کہ نواز شریف کے ساتھ ڈیل کے بیان سے غلط تاثر پیدا ہوا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ امور شہزاد اکبر نے نواز شریف کے ساتھ ڈیل کرنے پر محکمہ زراعت سے پوچھنے کے بیان پر معافی مانگ لی ہے اور اس بیان کے چند گھنٹے بعد ہی وضاحت کر دی ہے۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کی جانب سے اقتصادی ترقی کے دعووں پر بھی اقتصادی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب تمام ملکی غیر ملکی ادارے کہہ رہے تھے کہ ملکی معیشت ترقی کر رہی ہے اور ملکی جی ڈی پی پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی اس وقت صرف کپتان اور اسکے پیادے ملکی معیشت کی تباہی کا رونا روتے تھے بلکہ مقتدر قوتوں کو بھی معیشت بارے تشویش ہوتی تھی لیکن آج جب جی ڈی پی منفی صفر اعشاریہ چار کو پہنچ چکی ہے اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گذارنے والوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے، تو ایسی صورتحال میں کپتان اور اسکی ٹیم اسے معاشی ترقی قرار دے رہے ہیں اور معیشت کو درست سمت پر گامزن قرار دے رہے ہیں۔

اب یہ کونسی منطق ہے یا ترقی جانچنے کا پیمانہ ہے جس سے ماضی کے ماہرین ناآشنا تھے۔ بعض حلقوں کی جانب سے حکومتی دعوں پر تنقید کی جا رہی ہے اور جملے کسے جا رہے ہیں کہ ان کا ہدف ہی معاشی تنزلی تھا جس کے پیچھے بہت سے راز پنہاں ہیں اس لیے جب ملکی جی ڈی پی منفی ہے تو اسے درست سمت قراردیا جاتا ہے۔

دوسری جابب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب پاکستان سے ناراض ہے اسی سلسلے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میڈیا کی قیاس آرائیوں کی دکان بند نہیں ہونے دیں گے اور انہیں مصالحہ دار مواد فراہم کرتے رہیں گے، شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سعودی عرب نے پاکستان کا پٹرول بند کیا ہے اور نہ ہی پیسے واپس مانگے ہیں لیکن میڈیا اپنی دکان چمکانے کے لئے قیاس آرائیاں کرتا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کابہت گہرا تعلق ہے۔ یہ تعلق محض حکومتی سطح پر ہی نہیں عوامی سطح پر بھی بہت گہرا ہے۔ اس گہرے تعلق کی بنیاد پر ہمیں ایک دوسرے سے توقعات بھی زیادہ ہیں اور جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو پھر شکوے بھی ہوتے ہیں۔

طالبان کے وفد کی پاکستان آمدسے متعلق سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کو کوششوں کے باعث طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں امن معاہدہ ممکن ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کا وفد پاکستان آیا ہے تو کتنے دن یہاں رہے گا اور کس کس سے ملاقاتیں کرے گا، انہوں نے ہاتھ کا اشارہ کر کے مٹھی بند رکھنے کا کہا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو