حکومت اور نجی بجلی گھروں کے درمیان مذاکرات مکمل، اربوں روپے کی بچت کا امکان

حکومتی مذاکراتی ٹیم اور نجی بجلی گھروں کے درمیان مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں آئندہ 7 سے 10 سال میں 675 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

ذرائع کے مطابق انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے مذاکرات کے لیے سابق وفاقی سیکرٹری بابر یعقوب کی سربراہی میں قائم حکومتی کمیٹی اور نجی بجلی گھروں کےدرمیان مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں اور باہمی مفاہمت کی یاداشتوں پر آج دستخط ہونےکا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نجی بجلی گھروں سے مذاکرات کے نتیجے میں اگلے 7 سے 10 سال میں 675 ارب روپے کی بچت ہوگی اور سرکاری، کوئلے اور گیس سے چلنے والے کارخانوں پر یہ اصول لاگو ہوئے تو 20 سے 25 سال میں 5 ہزار ارب روپے کی بچت ہوگی۔

مذاکرات کے نتیجے میں نجی بجلی گھروں کامنافع مقامی سرمایہ کاروں کو ڈالرکے بجائے روپے میں ادا کیا جائے گا تاہم بیرونی سرمایہ کاروں کا منافع ڈالر میں ہی ہوگا لیکن اس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 12 فیصد ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاو ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نجی بجلی گھروں سے 50 ارب روپے کے قریب وصولیاں کرے گا، معاہدے کے تحت حکومت نجی بجلی گھروں کو ادائیگیوں کا طریقہ کار وضع کرے گی اور بجلی گھروں کو خریداری کی مارکیٹ فراہم کرے گی جب کہ مستقبل میں پیٹرول کا غلط استعمال روکنے کے لیے بھی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

مذاکرات میں طے ہوا ہے کہ بجلی گھروں کو ادائیگیاں صلاحیت کی بجائے خریدی جانے والی بجلی پر ہوں گی اور دیر سےادائیگیوں پر 2 ماہ کے لیے سود کی شرح 4.5 فیصد سے کم کرکے 2.5 فی صد ہوگی، نجی بجلی گھروں نےٹیکس چوری یا بے ضابطگی کی تو اداروں پر تحقیقات کے لیے کوئی قدغن نہیں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی ٹیم اس ماہ کی 31 تاریخ کو حتمی رپورٹ کابینہ میں پیش کردے گی اور کابینہ سےمنظوری کے بعد حکومتی ادارے نجی بجلی گھروں سے باقاعدہ معاہدے کریں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو