تبدیلی سرکار دو سال میں نوازشریف کے تین ادوار سے زیادہ قرض لے چکی: شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار دو سال میں نوازشریف کے تین ادوار سے زیادہ قرض لے چکی پھر بھی لوگ ایک وقت کی روٹی اور پرانے پاکستان کو ترس رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں، دو سال میں مہنگائی نے لوگوں کوتباہی کے دہانے پرپہنچادیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف دور میں تاریخ ساز منصوبے لگائے گئے، 72 سال کی تاریخ میں ان منصوبوں کی مثال نہیں ملتی، سکھر سے اسلام آباد موٹروے پر سفر کرنے والوں نے بتایا کہ ہوائی جہاز سے بہتر سفر ہے، انہوں نے سی پیک کا مذاق اڑایا، الزامات لگائے، تضحیک کی، آج تک ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، یہ اوران کے حواری الٹے ہوگئے، کچھ نہیں ملا، بتا دیں کسی ایک منصوبے میں ایک دھیلے یا دمڑی کی کرپشن ملی ہو؟

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف ناقابل مثال پروپیگنڈا کیا گیا، آج چینی کی قیمت سو روپے سے اوپر چلی گئی ہے، اب چینی درآمد کی جا رہی ہے، پہلے چینی برآمد کی گئی، روپے کی قدر میں کمی کا فائدہ اٹھایا گیا، کسانوں کو سزا دی گئی اور برآمد کنندگان نے اربوں منافع کمایا۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار گندم کٹائی سیزن ختم ہونے سے پہلے ناپید ہوگئی، حکومتی رکن نے فلورآف دی ہاؤس پر کہا کہ گندم کہاں گئی؟ تیل کی قیمتیں ایک دھچکے میں آسمان پر پہنچا دیں، بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کیا، گردشی قرضہ پھر بھی قابو میں نہ آیا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نوازشریف دور میں ایل این جی کے 5000 میگاواٹ کے 4 منصوبے لگائے گئے، بد ترین نااہلی اور نالائقی کی وجہ سےبجلی کی بھی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، تیل پرچلنے والے منصوبوں کو بند کرنا چاہیے تھا لیکن مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں 40 فیصد کمی کی لیکن برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا، ملکی تاریخ میں دوسری بارجی ڈی پی کی ترقی منفی ہوئی، 1952ء کے بعد دوسری بارمنفی گروتھ ہوئی، دو سال میں جو قرضہ لیا وہ نوازشریف کے تین ادوار سے زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے تین ادوار کا قرضہ ایک طرف اور موجودہ حکومت کے دو سال کا قرضہ ایک طرف ہے، کابینہ میں بیٹھے یہ سب دودھ کے دھلے ہیں، لوگ پرانا پاکستان ڈھونڈ رہے ہیں، سارے نظام کو تباہ و برباد کر دیا گیا، لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی سربراہی میں پنجاب کے اسپتالوں میں ادویات مفت تھیں لیکن انہوں نے کینسر، ہیپاٹائٹس جیسے موذی امراض کی ادویات بند کردیں، ادویات کی قیمتوں کے اسکینڈل کے وزیر کا کچھ پتا نہیں۔

ملک میں جاری احتساب اور این آر او بحث پر صدر مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ کابینہ میں موجود لوگ دودھ سے دھلے ہوئے ہیں، ان سے کوئی نہیں پوچھتا، ہم بلاتفریق احتساب کے خلاف نہیں لیکن اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کا تماشہ پوری قوم دیکھ رہی ہے، انہوں نے اپوزیشن کو دیوار سے لگایا، دیوار سے لگانے کے باوجود ہم نے تعاون کا ہاتھ بڑھایا جسے جھٹک دیا، کہتے ہیں این آر او نہیں دوں گا کیا اس سے لوگوں کو روٹی مل جائے گی؟

ملکی خارجہ پالیسی سے متعلق اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ خارجہ محاذ پر ناکامیاں سامنے ہیں۔ وزیر خارجہ نے غیر ذمہ دارانہ بیان دے کے سعودی عرب جیسے قریبی دوست کو بھی ناراض کیا، سعودی عرب کے بارے میں جو وزیر خارجہ نے کہا عقل دنگ رہ جاتی ہے، سعودی عرب سے تعلقات میں بگاڑ ڈالنے کی کوشش کی گئی، چین جیسے دیرینہ دوست کو ناراض کیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو