فلپائن میں بم دھماکے، خاتون خودکش بمبار سمیت 11 ہلاک، درجنوں زخمی

فلپائن کے صوبہ سولو میں دو بم دھماکوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق فلپائن کی فوج کا کہنا ہےکہ صوبائی دارالحکومت مولو میں ہونے والے دھماکوں میں ایک خاتون خودکش بمبار بھی ہلاک ہوئی۔

فوج نے ابتدائی رپورٹس میں بتایا ہے کہ پہلا دھماکا دوپہر 12 بجے کے وقت ایک مصروف سڑک پر گروسری اسٹور کے باہر ہوا جب کہ اس کے ایک گھنٹے بعد 100 میٹر کے فاصلے پر دوسرا دھماکا ہوا جس میں چرچ کو نشانہ بنایا گیا۔

دونوں دھماکوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت پولیس اور فوج کے اہلکاروں کی ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی منصوبہ بندی منڈی سواد جان نے کی ہے جو کہ جنوری 2019ء میں کیتھولک چرچ پر دھماکے میں بھی ملوث ہے۔

گزشتہ سال چرچ پر ہونے والے دھماکے میں 19 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ جنوبی فلپائن کے شہر جولو میں یکے بعد دیگرے ہونے والے موجودہ دو خوفناک دھماکوں میں 6 فوجی اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک اور 17 اہلکار زخمی ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی فلپائن کے صوبے سولو کے دارالحکومت میں ہونے والے پہلے دھماکے میں 5 فوجی اہلکار اور 4 شہری ہلاک ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ فوجی حکام جائے وقوعہ پر پہنچے۔

جیسے ہی لیفٹننٹ جنرل کارلیٹو ونلیوان دھماکے کی جگہ پر پہنچے تو ایک مبینہ خاتون خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اُڑا لیا جس میں لیفٹننٹ جنرل ہلاک ہوگئے۔

دونوں دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 17 ہے اور سارے فوجی اہلکار ہیں۔ دھماکے اس مقام پر ہوئے جہاں گزشتہ برس ایک کیتھولک چرچ میں دھماکے سے 20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس علاقے میں ابوسیاف نامی شدت پسند جماعت کافی سرگرم ہے جو خود کو داعش کے اتحادی ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہے۔ اس جماعت نے پہلے بھی اپنی کارروائیوں میں خاتون خودکش بمبار کا استعمال کیا تھا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو