مسلم لیگ (ن) تیسرا این آر او مانگ رہی ہے: بابر اعوان

وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) تیسرا قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) مانگ رہی ہے۔

بابر اعوان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کا پہلا این آر او مشرف کے ساتھ ہوا، دوسرا وہ جو ابھی ہوا جب کہ تیسرے این آر او میں لکھ کردیا گیا ہے کہ ایک قانون کی 38 میں سے 34 شقیں نکال دیں۔

بابر اعوان کے مطابق 38 میں سے 34 سیکشن نکالنے کا مطلب ہے کہ جیلوں کے تالے کھولے جائیں لیکن وہ بیل منڈھے نہیں چڑھنی تھی تو نہیں چڑھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اختیار وزیراعظم کے پاس نہیں تو لکھ لکھ کے کیوں عرضیاں بھیجتے ہیں؟ اختیار نہیں تو عرضیاں نہ بھیجیں، پھر کیوں بات کرتے ہیں حکومت سے؟

مشیر برائے پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو واپس لانےکے لیے سب سے پہلے قانون کو دلچسپی ہے۔

واضح رہے کہ نیب قوانین میں ترمیم پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ترامیم کے لیے اپنی تجاویز منظو کروا کر این آر او لینا چاہتی ہے۔

اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور کے چیئرمین شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن کی ترامیم تحریک انصاف کے لیے قابل قبول نہیں جب کہ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نیب قانون میں ترامیم کے لیے اپوزیشن کے 35 نکات اتنے ناقابل عمل ہیں کہ ان پر بات بھی نہیں ہو سکتی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو