دو بڑی آئی ٹی کی جاپانی کمپنیوں کا پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان

جاپان کی دو بڑی آئی ٹی کمپنیوں خی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

جاپان میں پاکستان کے سفیر امتیاز احمد نے کہا ہے کہ جاپان میں آئی ٹی ماہرین کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگلے چند سالوں میں جاپان کو ساڑھے چار لاکھ آئی ٹی ماہرین کی ضرورت ہوگی جبکہ اچھی بات یہ ہے کہ ہماری کوششوں سے جاپان کی دو بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

سفیر پاکستان نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے پچھلے دو مہینوں میں جاپان کی دو بڑی کمپنیوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں انوسٹمنٹ کریں گے جس میں سب سے پہلے جاپان کارپوریشن لمیٹڈ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سافران گروپ ہے جو مل کر پاکستان میں فنانشل ٹیکنالوجی پراجیکٹ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے سال دسمبر میں ان کا پاکستان کا دورہ کروایا تھا جس میں انہوں نے اس سے منسلک کافی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور پچھلے مہینے کی سترہ تاریخ کو انہوں نے اعلان کیا ہے وہ پاکستان میں فنانشل ٹیکانالوجی پراجیکٹ کا آغاز کریں گے اور FinTech Platform over SIM کو متعارف کروائیں گے جس میں ڈیجیٹل کیمروں سے فنانشیل ٹرانزیکشن کی جا سکتی ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ سفران گروپ اور جے سی آئی کے پروگرام ہے کہ پاکستان سے آئی ٹی انجینئرز کوجاپان بلایا جائے انہیں تربیت دی جائے وہ پاکستان میں بھی کام کریں گے اور انہیں جاپان بھی لے کر آئیں گے اور اس کے علاوہ وہ باقی ٹیکنالوجیز پاکستان میں متعارف کروائیں گے تو الحمداللّٰہ یہ بڑی کامیابی ہے کہ وہ پاکستان جانے میں کامیاب ہوئے ۔

انہوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان جائیں گے ان کا پلان ہے کہ اگلے تین سال میں پاکستان سے سو آئی ٹی انجینئرز کو جاپان بلوائیں گے۔

دوسرا وہ پاکستان میں آف شور ڈیویلپمنٹ سسٹم بنانے کےخواہ ہیں اور تیسرا پاکستان سے مزید آئی ٹی انجینئرز کو جاپان بلوائیں گے اور جن کمپنیز میں قلت ہیں وہاں انہیں بھیجیں گے، تو پچھلے دو مہینے میں یہ دو بڑی کمپنیاں پاکستان جانے کی خواہ ہیں اور باقاعدہ اعلان بھی کر چکی ہیں۔

سفیر پاکستان کا کہنا تھا کہ ایوینٹن پہلے ہی بیس آئی ٹی انجینئرز لے چکی ہے اور مزید آئی ٹی انجینئرز کو بلانے کے خواہ ہیں اور بھی کافی کمپنییز نے خواہش ظاہر کی ہے جیسے ہی کورونا کی صورتحال بہتر ہوتی ہے ہم انہیں پاکستان بھیجیں گے فی الحال ہم انہیں ایمبیسی بلا کر ان کی زوم میٹینگز کروا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جو رہنمائی چاہیے ہوتی ہے ہم مہیا کر رہے ہیں، جاپان کا ادارہ انڈسٹریل ڈولپمنٹ سینٹر نے بھی ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جس کا نام آئی سی ٹی پاکستان ہے اس کے فنڈنگ جائیکا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے تحت پاکستان کے آئی ٹی وسائل کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں اور میچ میکنگ کر رہے ہیں، ان کا مارچ اپریل میں پاکستان جانے کا پلان تھا جو کورونا کی وجہ سے ممکن نہیں ہو سکا تو ہم اب نہیں ایمبیسی بلا کر ان کی زوم میٹنگر پاکستان کے اداروں، یونیورسیٹیز اور کمپنیز سے کرواتےہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ انشاء اللّٰہ اس پروجیکٹ کا اعلان اکتوبر میں ہوگا اور وہ پاکستان میں دسمبر جنوری میں رپورٹ پیش کریں گے، جاپانی کاروباری اداروں کی پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور پاکستان ماہرین کو جاپان بلوانے میں اضافے کے حوالے سے سوالے کے جواب میں سفیر پاکستان نے کہا کہ اب جاپانی کمپنیاں پاکستانی آئی ٹی ایکسپرٹس میں بہت دلچسپی لے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم مسلسل بہت سی جاپانی کمپنیوں سے رابطے میں ہیں، ہم ان سے مل رہے ہیں ان کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں ان کی میچ میکنگ بھی کر رہے ہیں۔

ہمارے کچھ انجینئرز آچکے ہیں اور انشاء اللّٰہ بہت سارے مستقبل میں آئیں گے۔

امتیاز احمد نے کہا کہ ہمارے یہ کوشش ہے کہ جاپانی اور پاکستانی کمپنیوں کی آپس میں میچ میکنگ کروائی جائے، اس کے علاوہ ہم چاہتے ہیں کہ آف شور ڈیویلپمنٹ کام کے لیے جاپان پاکستان کو منتخب کرے اور ساتھ ہی ساتھ ہم بہت سی کمپنیوں سے رابطے میں ہیں جس میں راکوتین، میامابیکارپوریشن، کلائم، ایوینٹن کارپوریشن، ایکسز کارپوریشن ہے، ڈی ٹی ایس ہے ان تمام کمپنیوں سے ہم رابطے میں ہیں۔

ان کے علاوہ بھی بہت سی کمپنیوں سے رابطے میں ہیں اور وہ بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور پاکستانی آئی ٹی انجینئرز کو لینا چاہتے ہیں اور ان میں سے بہت سی کمپنیاں پاکستان بھی جانا چاہتی ہیں انشاللّٰہ جیسے ہی یہ کرونا کی صورتحال بہتر ہوتی ہیں ہم انہیں پاکستان بھیجیں گے۔

مستقبل میں پاکستان اور جاپان کے درمیان آئی ٹی کے شعبے میں کاروباری اشتراک میں اضافے کے حوالے سے سوال کے جواب میں سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ ایک بہت وسیع فیلڈ ہے جاپان میں آئی ٹی انجینئرز اور پراڈکٹس کی بہت ڈیمانڈ ہےمنسٹری آف اکانومی ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے ایک سروے کے مطابق اس وقت بھی جاپان میں آئی ٹی انجینئرز کی بہت قلت ہے لیکن 2030ء تک جاپان میں ساڑھے چار لاکھ آئی ٹی انجینئرز کی قلت ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آئی ٹی انجینئرز کی یہاں کتنی ڈیمانڈ ہے. اس سلسلے میں ہم اپنے اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں ہم اس سلسلے میں یونیورسیٹیز کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں کہ وہ اپنے طالبعلموں کووہ اسکل مہیا کریں جن کی جاپان میں ڈیمانڈ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جاپانی زبان بھی سکھائی جائے۔

اس کے علاوہ ہماری یہ خواہش ہے کہ جاپان اور پاکستان آئی ٹی کے حب ہیں ان کو آپس میں منسلک کیا جائے اس سلسلے میں گنما پریفیکچر میں مائی باشی کا جو آئی ٹی سٹی ہے اس کو پاکستان اسلام آباد میں موجود آئی ٹی اسپیشل اکنامک زون سے منسلک کرنا چاہتے ہیں اور پھر ہماری خواہش ہو گی کہ ان دونوں شہروں کو سسٹر سٹی بنایا جائے تا کہ مستقبل بنیادوں پر کام کیا جا سکے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ پوری امید ہےکہ ہم یہ جو کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اپنے اداروں اور یونیورسیٹیز کی جو ہمایت حاصل ہے اور یہاں پر ڈیمانڈ بھی کافی ہے تو انشااللّٰہ ہم اپنے بہت سے آئی ٹی انجینئرز کو جاپان میں لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

اسی طرح کی مزید پوسٹس

مینو