ملکی تاریخ میں گندم کی سب سے زیادہ پیداوار اور سب سے بڑی مقدار میں درآمد برآمد

موجودہ سال گندم کی سب سے زیادہ پیداوار ہوئی اور ملکی تاریخ میں سب سے بڑی مقدار میں امپورٹ (درآمد) کی جانے والی 1 کروڑ 50 لاکھ بوری گندم کی بندرگاہ سے پنجاب اور پختونخواہ میں بروقت اور تیز رفتار ترسیل کیلیے وافر تعداد میں گڈز ٹرانسپورٹ کا حصول وفاق اور صوبوں کیلیے سب سے بڑا آپریشنل چیلنج بن گیا۔

گزشتہ ایک ماہ کے دوران گڈز ٹرانسپورٹ کرایوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہوا، کراچی بندرگاہ سے لاہور تک ایک سو کلو گرام وزن کی گندم بوری کا کرایہ 425 جبکہ راولپنڈی تک کرایہ 455 روپے وصول کیا جارہا ہے جبکہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید اضافہ کا امکان ہے.

مستقبل میں گندم ، چینی اور کھاد کی 20 لاکھ ٹن سے زائد امپورٹ کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹرز نے ’’ ایکسل لوڈ ‘‘ بڑھانے کیلئے اپنے ٹرالرز میں تکنیکی تبدیلیاں کرتے ہوئے اضافی ایکسلز کی تنصیب شروع کروا دی۔

نجی شعبے کی امپورٹ ایکسپورٹ میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے بالخصوص 24 اگست سے نجی شعبہ کی جانب سے امپورٹ کی جانے والی 6 لاکھ ٹن گندم کی کراچی بندرگاہ آمد بھی شروع ہو جائیگی جبکہ وفاقی حکومت نے بھی 15 لاکھ ٹن گندم ، 3 لاکھ ٹن چینی سمیت بھاری مقدار میں کھاد امپورٹ کرنے کا آغاز کردیا جوکہ ملکی تاریخ میں کسی ایک مخصوص سال میں سرکاری امپورٹ کی سب سے بڑی مقدار ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو